ہوم   > بین الاقوامی

کیا پینگولین کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنا؟

SAMAA | - Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 1 week ago

فوٹو : اے ایف پی

چینی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نسلی معدومی کا شکار جانور پینگولین بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔

چین میں پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 42 ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں، ماہرین اس بات پر تحقیق کررہے ہیں کہ یہ مرض کس جانور سے پھیلا۔

چینی سائنس دانوں نے ایک تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس بالواسطہ پینگولین کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا، جس کے بعد یہ وائرس ایک انسان سے دُوسرے انسان میں منتقل ہورہا ہے۔

ساؤتھ چائنا یونیورسٹی آف ایگری کلچر کے تحقیق کاروں کا دعویٰ ہے کہ پینگولین اس وائرس کے پھیلاؤ کا مضبوط ذریعہ ہو سکتا ہے، تاہم ادارے نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

ماہرین نے مختلف جانوروں کے 1000 نمونوں کی جانچ پڑتال کے بعد انکشاف کیا کہ پینگولین میں پایا جانے والا وائرس، انسانوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس سے 99 فیصد مماثلت رکھا ہے۔

چین کے صوبہ ہوبئی کے شہر ووہان میں کورونا وائرس پھیلنے کا ذریعہ سمندری اور جنگلی حیات کی مارکیٹ کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ماہرین یہ امکان ظاہر کررہے تھے کہ چمگادڑ کے ذریعے یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا، تاہم نئی تحقیق کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ پینگولین بھی وائرس کی ترسیل کا ذریعہ بنا۔

مزید جانیے : کورونا وائرس سے ہلاکتیں ایک ہزار سے تجاوز

جانوروں کے تحفظ کے عالمی ادارے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے مطابق پینگولین سب سے زیادہ اسمگل کئے جانیوالے جانوروں میں شامل ہے، گزشتہ 10 سال کے دوران 10 لاکھ سے زائد پینگولین ایشیا اور افریقا کے جنگلات سے پکڑے گئے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ پینگولین کو چین اور ویتنام کی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا ہے، جہاں اس کی کھال کو ادویات سازی میں استعمال کیا جاتا جبکہ اس کا گوشت بھی بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
CHINA, HEALTH, WHO, CORONAVIURS, CORVID19, PANGOLIN, EPIDEMIC
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube