Thursday, October 22, 2020  | 4 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

بریگزیٹ مکمل:برطانیہ یورپی یونین سے47سال بعدالگ

SAMAA | - Posted: Feb 1, 2020 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 1, 2020 | Last Updated: 9 months ago

برطانيہ 47 سال بعد يورپي يونين سے عليحدہ ہوگيا۔ باقاعدہ اعلان کے موقع پر لندن روشنيوں ميں نہا گيا۔ سڑکوں پر بڑی تعداد ميں لوگ جمع ہوئے جنہوں نے اپنے ملک کے حق ميں نعرے لگائے۔

برطانوی وقت کے مطابق جمعے کی شب 11 بجے بریگزٹ مکمل ہوگیا اور برطانیہ یورپی یونین کا حصہ نہیں رہا۔ علیحدگی کے موقع پر برطانیہ بھر میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر انگلينڈ اور متحدہ برطانيہ کے پرچم لہرائے۔ بریگزٹ کی حمایت اور مخالفت کرنے والے مظاہرین کی جانب سے برطانیہ بھر میں مختلف تقریبات میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا۔

بریگزٹ کے حامیوں نے جشن منانے کیلئے پارلیمنٹ اسکوئر میں ایک ریلی نکالی اور اس اسکوئر کو یونین جھنڈوں سے سجایا گیا۔ ڈاؤنگ اسٹریٹ پر ایک گھڑی نے بریگزٹ کے لمحے تک کاؤنٹ ڈاؤن جاری رکھا۔ کاؤنٹ ڈاؤن کیلئے لندن کے معروف گھنٹا گھر بگ یبن سے کو استعمال نہ کیا جاسکا کیونکہ گھنٹا گھر میں مرمت کا کام جاری ہے۔

اے ایف پی

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ان رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کی مہم زور و شور سے چلائی، جب کہ حالیہ انتخابات میں بھی بورس جانسن کی جانب سے بار بار اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے دوبارہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ فوری طور پر یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

بریگزٹ پر عمل سے کچھ گھنٹے پہلے برطانوی کابینہ کا علامتی اجلاس ہوا جس کے بعد ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بریگزٹ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے، تاہم انہوں نے صحافی کی جانب سے پوچھے گئے ملک کو دو ٹکڑے کرنے کے سوال کا جواب نہیں دیا۔

برطانیہ کے قائد حزب اختلاف جریمی کوربن نے کہا کہ بریگزٹ ڈے جشن کا نہیں، سوچ بچار کا دن ہے، انہوں نے مستقبل کے حوالے سے اپنے خدشات کا بھی واضح اظہار کیا ہے۔

یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد بیشتر یورپی قوانین، بشمول شہریوں کی آزادانہ آمد و رفت، اس سال 31 دسمبر تک نافذ رہیں گے۔ سال 2020 منتقلی کا سال ہے۔ اس تمام عرصے میں برطانیہ اس بات کی کوشش کرے گا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ فری ٹریڈ اگریمنٹ (تجارتی معاہدے) طے کریں جیسا یورپی یونین کا کینیڈا کے ساتھ ہے۔

اے ایف پی

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے یورپی یونین سے اخراج کا بل دارالعوام سے منظور کیا گیا تھا۔ رائے شماری میں 330 اراکین نے حق میں اور 231 نے مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد برطانیہ 31 جنوری تک یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کی تاریخ طے کی گئی تھی۔

برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا اخراج کے حوالے سے جون سال 2016 میں ریفرنڈم کرایا گیا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 فیصد جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے تھے۔

ریفرنڈم کے نتائج پر اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا جو بریگزٹ کے مخالف تھے، جب کہ ان کے بعد وزیراعظم بننے والے تھریسا مے بھی اسی مسئلے پر وزارت عظمیٰ چھوڑ چکی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube