ہوم   > بین الاقوامی

عراق میں پرتشدد مظاہرے، جھڑپوں میں صحافی سمیت 6افراد ہلاک

SAMAA | - Posted: Jan 21, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 21, 2020 | Last Updated: 2 months ago

تصاویر : اے ایف پی

عراق ميں مہنگائی اور کرپشن کیخلاف عوامی احتجاج میں ایک بار پھر شدت آتی جارہی ہے، مظاہرین نے قبل از وقت اليکشن اور کرپٹ سياستدانوں کے احتساب کا مطالبہ کرديا۔ کئی شہروں میں فورسز سے جھڑپوں ميں 2 اہلکاروں اور صحافی سميت 6 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

عراق میں حکومتی پالیسیوں، کرپشن، مہنگائی اور بیروزگاری کیخلاف تین ماہ سے جاری احتجاج کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا، دارالحکومت بغداد، کربلا اور بصرہ سمیت کئی شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر ہیں، جو مطالبات کی منظوری چاہتے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے مطالبات کی تکميل چاہتے ہيں، ہميں ايک شہری سمجھا جائے، يہاں کوئی روزگار نہيں، بہتر تعليم نہيں، اسکول نہيں، ہمیں روزگار اور محفوظ ماحول چاہئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظاہرین کی جانب سے حکومت کو دی گئی مطالبات پر عملدرآمد کی مہلت ختم ہونے کے بعد عراق ميں ہزاروں شہری ایک بار پھر سڑکوں پر آئے تو فورسز نے ان پر براہِ راست گولياں چلا ديں۔

فورسز کی فائرنگ نے مظاہرين کو مشتعل کرديا، جس کے بعد عراق بھر ميں پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے، ٹائر جلا کر اہم شاہراہيں اور پُل بند کر دیئے گئے، ذی قار اور دیوانیہ میں مظاہرین کفن پہن کر سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرین نے 16 سال سے مسلط حکمرانوں کو غاصب قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کو تباہ کردیا اور عراق کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا۔

بصرہ ميں مظاہرين نے فورسز پر گاڑی چڑھا دی، جس سے 2 اہلکار جان سے گئے، بغداد اور کربلا ميں سر پر گولی اور آنسو گيس شيل لگنے سے نوجوان صحافی سميت کئی افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

میڈیا کے مطابق پرتشدد واقعات میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب بغداد ميں گرين زون پر گزشتہ رات 3 راکٹ فائر کئے گئے، 2 راکٹ امریکی سفارتخانے کے قريب گرے، حملوں کے بعد سائرن کی آوازيں سنی گئيں، تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

خیال رہے کہ عراق میں یکم اکتوبر 2019ء سے جاری مظاہروں میں اب تک 500 سے زائد افراد ہلاک اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں فورسز کے اہلکار، صحافی، رضا کار اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
IRAQ, PROTEST, BAGHDAD, US, IRAN, INFLATION, JOBLESS, CORRUPTION
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube