ہوم   > بین الاقوامی

تیسرے امریکی صدرکیخلاف مواخذےکا آغاز21جنوری سےہوگا

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
یہ تصویر بزنس انسائیڈر سے لی گئی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا باضابطہ آغاز رواں ماہ 21 تاریخ سے ہوگا۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق امریکی صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور کانگریس کے کام میں رکاوٹیں ڈالیں، جب کہ دوسری جانب امریکی صدر اور ان کی قانونی ٹیم بار بار اس الزام کی تردید کر رہی ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا مقدمہ سینیٹ میں چلانے کی قرارداد کی منظوری دے دی ہے۔ مواخذہ کی کارروائی ایوانِ نمائندگان سے شروع ہوتی ہے اور اس کا مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے۔ مواخذے کی کارروائی میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

امریکی آئین کے مطابق صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے اس صورت میں ہٹایا جا سکتا ہے جب انہیں بغاوت، رشوت ستانی، کسی بڑے جرم یا بد عملی کی وجہ سے سزا دینا درکار ہو، تاہم امریکی سینیٹ میں اس وقت ری پبلیکنز کا ووٹ زیادہ ہے، جس کے باعث عام تاثر یہ ہے کہ یہ مواخذے کی کارروائی کامیاب نہیں ہوگی۔

ننیسی پلوسی

اس سے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ سینیٹ میں چلانے کی قرارداد کی منظوری دی تھی۔ اس قرارداد کی حمایت (228) اور مخالفت میں (193) ووٹ پارٹی سیٹوں کے مطابق ہی ڈالے گئے۔

ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مواخذے کے آرٹیکلز پر جب دستخط کیے تو اس وقت ان کے ہمراہ ڈیموکریٹک پارٹی کے وہ اراکین موجود تھے جو کہ سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے خلاف استغاثہ کا کردار ادا کریں گے۔

حال ماضی سے مختلف نہ ہوگا

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب تک امریکی تاریخ میں صرف دو صدور کو ہی مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہوا اور ان کا مواخذاہ ہوا ہے۔

کلنٹن

اس سے قبل سال 1998 میں بل کلنٹن جو کہ بیالیسویں امریکی صدر تھے کو وائٹ واٹر کیس میں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا، ایوان نے پہلے الزام پر 228 میں سے 206 ووٹوں کے ساتھ مواخذے کی حمایت کی جبکہ دوسرے الزام پر 221 میں سے 212 لوگوں نے حمایت کی۔ یہ بھی خیال رہے کہ دسمبر 1998 میں بل کلنٹن کی بطور صدر توثیق کی شرح 72 فیصد تھی۔ تاہم جب 1999 میں یہ معاملہ سینیٹ تک پہنچا تو حکم نامہ کی منظوری کے لیے دو تہائی حمایت حاصل نہ کر سکا۔

سال 1868 میں اس وقت کے امریکی صدر اینڈریو جانسن کو بھی اختیارات کے ناجائز استعمال پر مواخذے کا سامنا کرنا پٹا تاہم انہیں بھی سینیٹ نے بری کر دیا تھا۔

مواخذے کی کارروائی ناکام ہونے کے باعث آج کسی امریکی تاریخ میں کسی صدر کو اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔ تاہم تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ مواخذے کا سامنا کرنے والے صدر آئندہ ہونے والے صدارتی الیکشن میں ناکام ہوتے ہیں۔

ٹرمپ کو جنگ سے روکنے کی قرارداد امریکی ایوان میں منظور

کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟

آئندہ ہفتے سینیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں ان کا دفاع سابق صدر بل کلنٹن کے مواخذے کے دوران ان سے تفتیش کرنے والے وکلا کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا دفاع کرنے والے وکلا میں کین اسٹار اور رابرٹ رے شامل ہیں، جنہوں نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے مواخذے کے مقدمے میں ان سے تفتیش کی تھی۔

وکلا کی اس ٹیم میں ایلن درشووتز بھی شامل ہیں جو ماضی میں فٹ بال کھلاڑی او جے سمپسنز کے وکیل بھی رہ چکی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سمپسنز پر اپنی اہلیہ اور ان کے دوست کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ اس مقدمے کو ’صدی کا مقدمہ‘ بھی کہا جاتا ہے اور سمپسنز اس مقدمے میں بری ہو گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے وکیل پیٹ سپولون اور ٹرمپ کے ذاتی وکیل جے سیکیولو وکلا کی اس ٹیم کی قیادت کریں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube