ہوم   > بین الاقوامی

کشمیر کے تنازع پرسلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس

SAMAA | - Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 16, 2020 | Last Updated: 1 month ago

تصویر: اے ایف پی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں مقبوضہ کشمير کی صورت حال پرتبادلہ خیال کيا گيا۔ سلامتی کونسل نے پاکستان اوربھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہارکیا۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں 5 ماہ میں د وسری بارمقبوضہ کشمیرکی سنگین صورتحال پرغور کیاگیا۔اقوام متحدہ میں چین کے سفیرژینگ جن نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرزمیں صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے جموں وکشمیر کے بارے میں اجلاس بلایا۔

انہوں نے کہاکہ صورتحال پراقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں 15 رکنی کونسل نے بریفنگ سنی ہے۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان مسئلہ کشمیرسلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں چین کے سفیرنے اقوام متحدہ سے کہاکہ مسئلہ کشمیرپرہمارا موقف واضح ہے، بھارت اورپاکستان کے درمیان کشمیرایک متنازع علاقہ ہے اور وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت کرتاہے۔

چین کے سفیرنے کہاکہ انہیں یقین ہے کہ سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس سے فریقین کومزیدکشیدگی بڑھنے کے خطرے کااحساس کرنے میں مدد ملی ہے اورانہیں ایک دوسرے سے روابط بڑھانے کی حوصلہ افزائی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کاحل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

امن کارروائیوں کے محکمے اور سیاسی اور امن سے متعلق امور کے محکمے نے سلامتی کونسل کے شریک ارکان کوکشمیر کی صورتحال پربریفنگ دی۔

اس سے قبل پاکستان اور چین نے بھی صورتحال پر غور کرنے کی درخواست کی تھی۔

نیویارک میں موجود پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قريشی نے بھی سلامتی کونسل کے جنرل سيکريٹری، جنرل اسمبلی کے صدر تجانی محمد باندے اور سيکيورٹی کونسل کے صدر سے ملاقاتيں کيں۔ شاہ محمود نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حمايت کرنے پر چين کا شکريہ بھی ادا کيا ۔

یاد رہے کہ 5 اگست کو بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی نے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔

صدر رام ناتھ کووند نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کے بل پر دستخط کیے تھے جس کے تحت مقبوضہ وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے 2 حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ لداخ کو بھارت کی مرکزی حکومت سے کنٹرول کیا جائے گا، جبکہ جموں و کشمیر کی اپنی علیحدہ اسمبلی ہوگی۔

آرٹیکل 370 کی قرارداد پر لوک سبھا میں جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں پاکستان کے زیر انتظام کمشیر اور اکسائی چن بھی شامل ہیں۔ اکسائی چن سمیت لداخ اب مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube