ہوم   > بین الاقوامی

برطانوی پولیس اہلکار کا مبینہ قاتل پاکستان سے گرفتار

SAMAA | - Posted: Jan 15, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 15, 2020 | Last Updated: 1 month ago

برطانوی حکام کے مطابق سال 2005 میں ایک برطانوی پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث شخص کو پاکستان میں گرفتار کرلیا گیا ۔

برطانوی پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 71 سالہ پیران دتہ خان کو منگل کے روز پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور بدھ کے روز اسلام آباد میں ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

برطانوی پولیس کے مطابق اس کی حوالگی سے متعلق امور پر پاکستانی حکام سے تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ویسٹ یارکشائر پولیس سے تعلق رکھنے والی افسر شیرن بشنوسکی کو ایک ڈکیتی کے دوران گولی مار دی گئی تھی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ پیراں دتہ خان مبینہ طور پر ڈکیتی کرنے والے اس گروہ کے لیڈر تھے، یہ واقعہ بریڈفورڈ میں 18 نومبر سنہ 2005 کو پیش آیا تھا۔

پولیس افسر شیرن بشنوسکی کی عمر اس وقت 38 برس تھی اور انھیں پولیس میں بھرتی ہوئے صرف نو ماہ ہوئے تھے، جس دن ان کو گولی لگی اس دن ان کی چھوٹی بیٹی لیڈیا کی چوتھی سالگرہ تھی۔

ان کی ساتھی پولیس افسر ٹریزا ملبرن کو بھی اس واقعے میں گولی لگی تھی لیکن وہ بچ گئی تھیں۔

پولیس افسر شیرن بشنوسکی کے قتل کے جرم میں پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس وقت ویسٹ یارکشائر پولیس کا کہنا تھا کہ گینگ کا مبینہ لیڈر خان پاکستان میں مفرور ہے اور ان کی تلاش جاری ہے اور کسی قسم کے اطلاع پر 20 ہزار پاؤنڈ کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔

ڈپٹی سپرانٹینڈنٹ مارک سوِفٹ کا کہنا ہےمیں پاکستان میں نیشنل کرائم ایجنسی اور پارٹنرز کا مشکور ہوں جن کی وجہ سے یہ گرفتاری ممکن ہوئی۔

طویل عرصے سے جاری اس تحقیقات میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے، ہم مسٹر خان کی ملک بدری کے لیے پاکستان میں اپنے پارٹنرز سے رابطے میں ہیں تاکہ انھیں برطانیہ لاکر عدالت میں پیش کیا جا سکے ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube