ہوم   > بین الاقوامی

ڈھائی ہزار سال قدیم4 روسی جنگجو خواتین کےڈھانچے دریافت

SAMAA | - Posted: Jan 14, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 14, 2020 | Last Updated: 3 months ago

ماہرین آثار قدیمہ نے روس میں ایک ہی مقبرے سے چوتھی صدی قبل مسیح کی چار جنگجو خواتیین کے ڈھانچے دریافت کر لئے۔

مختلف غیر ملکی نیوز ویب سائٹس کے مطابق یہ پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے کہ ایک ہی مقبرے میں چار جنگجو خواتین کی تدفین ہوئی ہو۔ ان چار خواتین کا تعلق عمر کے 3 مختلف گروپس سے ہے گویا وہ نانی، ماں اور نواسی ہوں۔ ماہرین کے لگائے گئے تخمینے کے مطابق ان میں سے ایک کی عمر 45 سے 50 سال ہے، دوسری 25 سے 35 اور تیسری 20 سے 29 سال کی ہے جبکہ سب سے چھوٹی 12 یا 13 سال کی ہے۔
گارے اور شاہ بلوط کی لکڑی کے بلاکس سے بنا یہ مقبرہ روسی شہر ورونش میں دریافت ہوا ہے۔

ان خواتین کی قبر سے لوہے کے تیر کے سرے، پرندہ کی شکل کا ایک آنکڑا، گھوڑے کی زین، لوہے کے چاقو، جانوروں کی ہڈیاں، مختلف برتن اور ایک ٹوٹا ہوا گلدان بھی نکلا ہے جس سے ماہرین نے یہ تخمینہ لگایا ہے کہ یہ تدفین چوتھی صدی قبل مسیح میں یعنی تقریبا” 2400 برس پہلے ہوئی ہے۔ جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ باقیات اس دور کی تورانی جنگجو خواتین کی ہیں جو قدیم جنگجو تھیں اور سن 200 قبل مسیح اور 900 قبل مسیح کے درمیان سائبیریا میں رہتی تھیں۔

جنگجو ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ان خواتین کے لئے متاثر کن یا آئیڈیل بھِی تھیں جو گھر اور باہر دونوں میدانوں میں کامیاب تھیں۔

جس مقام پر یہ دریافت ہوئی ہے وہاں قدیم قبروں کے 19 ٹیلے موجود ہیں جہاں سن 2010 سے تحقیق کا عمل جاری ہے اس طرح اس حالیہ مقبرے کو کھوج نکالنے میں ایک دھائی کا عرصہ صرف ہوا۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں انہوں نے مسلح جنگجو خواتین کی کل 11 قبریں دریافت کی ہیں۔ ان خواتین کی تدفین کے دوران وہی رسومات ادا کی گئیں جو عموما” مرد حضرات کیلئے کی جاتی ہیں۔

اس حیران کن دریافت کے تحت جو ذاتی استعمال کی اشیاء ملی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈھائی ہزار سال پہلے لوگوں کا رہن سہن کیسا تھا۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ زمانہ قدیم میں ہی ڈاکوؤں کی لوٹ مار کے باعث ایک لڑکی اور ایک جوان خاتون کے ساتھ دفنائی ہوئی اشیاء غائب ہو چکی ہیں جبکہ ایک جوان اور دوسری معمر خاتون کا سامان اس طرح کی کسی حرکت سے محفوظ رہا۔

ایک جوان خاتون کو ایک گھڑ سوار کی حیثیت سے دفنایا گیا تھا۔ اس کے بائیں کاندھے کے نیچے پیتل کے فریم والا ایک آئینہ ملا جبکہ بائیں ہی جانب دو نیزے اور بائیں ہاتھ پر شیشے کے موتیوں کا ایک کنگن تھا۔ اس کے پیروں کی جانب ایک پیالہ اور کھانے کا ایک برتن بھی پائے گئے۔

روس کی قدیم جنگجو خواتین کی اوسط عمر تقریبا” 30 ساے 35 برس کے درمیان ہوا کرتی تھی لیکن اس حالیہ قبر میں ایک خاتون کا 45 سال یا اس سے زائد عمر تک پہنچنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ اس معمر خاتون کے سر پر پھولوں کے نقش اور جھومروں والی ایک ٹوپی کی موجودگی بھی حیران کن تھی۔ جن زیورات کے ساتھ اس عورت کو دفنایا گیا تھا وہ 70 فیصدی سونے کے ہیں جبکہ بقیہ چاندی، تانبے اور لوہے سے بنے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ ماہرین اس بات کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کریں گے کہ اس خاتون کو اتنی اہمیت دئے جانے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل جنگجو خواتین کی قبروں سے ان کے جو زیورات ملے تھے ان میں سونے کے بہت کم تھے۔
اس معمر خاتون کے ساتھ ایک لوہے کا چاقو بھی دفنایا گیا تھا جو ایک کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پاس تیر کا ایک نوکیلا اگلا سری بھی پایا گیا۔

ماہرین کے مطابق اس خاتون کے سر پر صحیح سالم ٹوپی کا پایا جانا بہت حیران کن ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ایسی قبریں ہی کم ملتی ہیں کیوں کہ کئی صدیوں پہلے ہی لوگوں نے انہیں کھود کر تباہ کردیا تھا۔ اس کے علاوہ پہلے سائیبیریا میں پائی جانے والی جنگجو خواتین کے جوخود یا ٹوپیاں ملی ہیں وہ ٹکڑوں میں تھیں اس طرح بالکل محفوظ حالت میں نہیں تھیں۔

اس مرتبہ دلچسپ اور قدیم اشیاء ملنے کے علاوہ یہ بھی ایک نئی بات ہے کہ ایک ہی قبر سے ایک سے زائد جنگجو خواتین کی باقیات ملی ہوں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube