ہوم   > بین الاقوامی

یوکرینی طیارہ غلطی سے مار گرایا، ایران کا اعتراف

SAMAA | - Posted: Jan 11, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 11, 2020 | Last Updated: 2 months ago

تصویر: فاکس نیوز

ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا۔ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ طیارہ غیر ارادی طور پر انسانی غلطی کے باعث نشانہ بنا۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس حوالے سے کیے جانے ایک ٹویٹ میں لکھا ’’ ایک افسوسناک دن، مسلح افواج کی ابتدائی اندرونی تحقیقات کے مطابق ایران کی امریکا کے ساتھ کشیدگی کے باعث بحران کے وقت انسانی غلطی اس حادثے کا باعث بنی‘‘۔

اس سے قبل ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے پر جاری بیان میں کہا تھا کہ تباہ ہونے والا یوکرینی طیارہ پاسداران انقلاب سے وابستہ حساس ملٹری سائٹ کے قریب پرواز کررہا تھا کہ انسانی غلطی کے باعث غیر ارادی طور پر نشانہ بن گیا۔

یوکرین کے قومی ایئر لائن کے طیارے نے بدھ 8 جنوري کی صبح 6 بج کر 12 منٹ پرتہران ایئرپورٹ سے اڑان بھری تھی۔ بوئنگ 737 ون کی منزل يوکرين کا دارالحکومت کيف تھی۔ طیارے میں عملے سميت 176 افراد سوار تھے۔ پرواز کے 8 منٹ بعد جب طيارہ 8 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا تو اچانک ريڈار سے غائب ہوگيا اور پتہ چلا کہ يوکرين کا طيارہ ايران ميں گرکر تباہ ہوگيا ہے۔

طيارے ميں سوار82 ايرانی، 63 کنیڈین، 11 يوکرينی، 10 سوئيڈش، 4 افغان، جرمنی اور برطانيہ کے 3، 3 شہری ہلاک ہوئے۔

کينيڈين وزيراعظم جسٹن ٹروڈو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ہمارے پاس اپنی اور اتحاديوں کی متعدد انٹيلی جنس اطلاعات ہيں اور شواہد سے پتا چلتا ہے کہ طيارہ زمين سے فضا تک مار کرنے والے ايرانی ميزائل لگنے سے تباہ ہوا۔

برطانوي وزيراعظم بورس جانسن نے ٹروڈو کے موقف کی تائید کی تھی اوردونوں وزرائے اعظم نے حقائق تک پہنچنے کیلئے ايران سے حادثے کی مکمل تحقيقات کرانے کا مطالبہ کياتھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حادثے کو غلطی قرارديتے ہوئےکہا تھا کہ بليک باکس بوئنگ کمپنی کےحوالےکرناچاہيے۔

اس سے قبل امريکا کی جانب سے طيارے کی تباہی سے متعلق اہم معلومات يوکرين کو فراہم کی گئی تھیں۔ يوکرينی وزيرخارجہ کے مطابق ماہرين فراہم کيے گئے ڈيٹا کا جائزہ لے رہے ہيں۔

يوکرینی صدرنے حادثے ميں دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران ميں نصب روسی میزائل دفاعی سسٹم بھی طيارے کی تباہی کی وجہ ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے آسٹريليا اور يورپی يونين نے بھی واقعے کی مکمل اور شفاف تحقيقات کا مطالبہ کيا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube