Tuesday, July 14, 2020  | 22 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بین الاقوامی

بھارتی شہریت کا متنازع قانون مسلم دشمن کیوں ہے؟

SAMAA | - Posted: Dec 14, 2019 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 14, 2019 | Last Updated: 7 months ago

 

بھارتی کی انتہاء پسند بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے مسلم دشمن اقدامات کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے، رواں سال 5 اگست کو پہلے کشمیر کے خصوصی اسٹیٹس سے متعلق آئین کے آرٹیکل 35 اے اور 370 میں ترمیم کی گئی، جس کے بعد آج شہریت کے متنازع ترمیمی بل (سی اے بی) کو دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر مملکت کے دستخط سے قانون کی شکل دے دی گئی۔

اس بل کو مختلف حلقوں کی جانب سے مسلم مخالف کہا جارہا ہے، جسے سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا بھی کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے لاکھوں مسلمانوں کو شہریت کے مساوی حق سے محروم رکھنے کیلئے گراؤنڈ تیار کرنا شروع کردیا ہے۔

مذہبی آزادیوں پر امریکا کے وفاقی کمیشن نے شہریت کے بل کو ’’غلط سمت میں خطرناک قدم‘‘ سے تشبیہ دی، تو اقوام متحدہ نے بھی اسے مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔

بی جے پی حکومت کے متنازع بل کیخلاف بھارت بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، چینئی، حیدرآباد سے لیکر کولکتہ اور پٹنہ سے لے کر پونے تک ہر جگہ احتجاج کیا جارہا ہے، صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی اس بل کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں، درجنوں مسلم طلبہ کے ساتھ ساتھ سابق آئی اے ایس کنن گوپی ناتھ سمیت سیکڑوں افراد کو حراست میں لے کر اس ظالمانہ بل کو لاگو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

شہریت کا ترمیمی بل کیا ہے؟

بھارت میں پہلی بار 1955ء میں شہریت کا قانون متعارف کرایا گیا تھا جس میں مختلف حکومتوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً ترامیم کی گئیں، اس قانون میں حالیہ ترمیم کے تحت بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کی 6 اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھارتی شہریت دینے کی بات کی گئی ہے، جن میں ہندو، بودھ، جین، پارسی، مسیحی اور سکھ شامل ہیں۔

اس بل کی سب سے متنازع بات جس پر سب سے زیادہ رد عمل سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے باہر رکھا گیا ہے، یعنی آئندہ ان ممالک سے بھارت آنیوالے مسلمانوں کو بھارتی شہریت حاصل کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

ترمیم سے قبل اس قانون کے مطابق شہریت حاصل کرنے کیلئے کسی بھی شخص کو (بلا تفریق مذہب و نسل) بھارت میں 11 سال رہنا ضروری تھا، ایسا شخص اگر شہریت کیلئے درخواست دے تو حکومت اسے منظور کر سکتی تھی تاہم نئے قانون کے تحت پڑوسی ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتی برادریوں کو چھوٹ دی گئی ہے اور 11 سال کی مدت کو کم کرکے 5 سال کر دیا گیا ہے۔

اس نئے قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے 31 دسمبر 2014ء سے قبل بھارت آنیوالی مذکورہ برادریاں فائدہ اٹھاسکیں گی، تاہم ان میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔ بھارتی انٹیلی جنس ادارے کے مطابق اس قانون سے ابھی 30 ہزار سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی مودی کابینہ نے یہ بل 4 دسمبر کو منظور کیا جبکہ 9 دسمبر کو لوک سبھا نے اس بل کی منظوری دی، 11 دسمبر کو متنازع شہریت کا قانون (سی اے بی) راجیہ سبھا سے بھی منظور کرالیا گیا، اور اب بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد یہ بل قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

آئین سے تصادم؟

بھارتی شہریت کے نئے قانون کی مخالفت کرنے والوں نے اسے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ آرٹیکل 5، 10، 14 اور 15 اس طرح کے قانون کی اجازت نہیں دیتے، جس میں بھارت کو سیکولر ریاست قرار دیا گیا ہے۔

کانگریس نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں مذہب کی بناد پر تفریق اور امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا، اس ترمیمی بل میں مسلمانوں کو واضح طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

بھارت میں 26 جنوری 1950ء سے نافذ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت جو شخص بھارت میں پیدا ہوا، جس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بھارت میں پیدا ہوئے یا جس نے آئین کے نفاذ سے قبل 5 سال مسلسل یہاں قیام کیا وہ بھارت کا شہری ہوگا۔

جبکہ آرٹیکل 14 اور 15 میں شہریوں کیلئے بلا تفریق مساوی حقوق اور ان کے تحفظ کا ذکر ہے، آرٹیکل 15 میں مذہب، ذات پات، نسل، جنس، جائے پیدائش سمیت کسی بھی بنیاد پر غیر امتیازی سلوک کی بات کی گئی ہے۔

بھارتی قانون دان کے مطابق ترمیمی قانون میں 6 برادریوں کا ذکر اور مسلمانوں کو اس میں شامل نہ کرکے آئین سے انحراف کیا گیا۔ قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ بل کو قانونی شکل دیدی گئی تاہم بھارتی سپریم کورٹ سے اسے کلیئرنس ملنا مشکل ہوگا کیونکہ یہ براہ راست مسلم مخالف ہے اور آئین سے متصادم بھی۔

بھارتی مسلمانوں کے جذبات؟

کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایوان بالا کے رکن پارلیمان فیاض احمد میر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے براہ راست مسلم مخالف قرار دیا، ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے آنے کے بعد ہمیشہ مسلم کمیونٹی کو ٹارگٹ کیا، ٹرپل طلاق بل، 370 کا معاملہ، سی اے بی بل کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بھارتی ماہرین بھی کہتے ہیں کہ اس بل کو اگر نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ بل مسلم مخالف بل ہے۔

بھارت نے حال ہی میں ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن نافذ کیا یعنی ریاست کے شہری کون ہیں، اس کی نشاندہی کرائی جس میں تقریبا 20 لاکھ افراد بھارتی شہریت کی فہرست سے باہر ہوگئے، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں، تاہم رپورٹس میں اکثریت ہندوؤں کی بتائی جارہی ہے۔

اس صورتحال کو اگر ترمیمی بل کے تناظر میں دیکھا جائے تو شہریت سے محروم ہونیوالے آسام کے ہندوؤں کو شہریت مل جائے گی لیکن برسوں سے وہاں آباد مسلمانوں کو محض دستاویزات کی کمی کے سبب غیر شہری، غیر ملکی، غیر قانونی در انداز قرار دینے کے ساتھ ساتھ کیمپوں میں رکھا منتقل کیا جاسکتا ہے، ایسی صورت میں ایک بڑے انسانی المیے کا جنم لینا طے ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس بل کا غلط استعمال حقیقی طور پر صرف مسلمانوں کیخلاف ہوگا کیونکہ وزیر داخلہ امیت شاہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ پورے ملک میں این آر سی نافذ کریں گے، اس رو سے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو تو شہریت مل جائے گی لیکن بھارتی مسلمان شہریت سے محروم ہوجائیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
INDIA, PAKISTAN, KASHMIR, ANTI MUSLIM LAW, CAB, BJP, MODI, ASAM, UN, HUMAN RIGHTS
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube