ہوم   > بین الاقوامی

خواجہ سراکو ٹوائلٹ استعمال کرنے سے روکنے پرجاپانی حکومت پرجرمانہ

SAMAA | - Posted: Dec 12, 2019 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 12, 2019 | Last Updated: 3 months ago

جاپان میں خواجہ سرا ملازم کو خواتین کا ٹوائلٹ استعمال کرنے سے روکنے پر ٹوکیو کی عدالت نے حکومت پر بھاری جرمانہ عائد کردیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے ٹوکیو کی عدالت کے ترجمان نے بتایا کہ ضلعی عدالت نے خواجہ سرا ملازم کو خواتین کا ٹوائلٹ استعمال کرنے سے روکنے پر حکومت کو 13 لاکھ ین (12 ہزار ڈالرز، تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے) ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، ساتھ ہی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ خواجہ سرا ملازم کو خواتین کا باتھ روم استعمال کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خواجہ سرا نے وزارت معیشت، تجارت اور صنعت میں بطور مرد ملازم کام شروع کیا تھا لیکن اب وہ ایک خاتون کے طور پر رہ رہے ہیں۔

انہوں نے 2015ء میں حکومت کیخلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے ایک کروڑ 65 لاکھ ین ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا، جو دفتری ماحول میں خواجہ سراؤں سے متعلق اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت نے کیس کی سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا تھا کہ خواجہ سرا کو اس لئے پابند کیا گیا کیوں کہ ان سے دیگر خواتین عملے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، تاہم جج نے اپنے فیصلے میں وزارت کے فیصلے کو ’’انتہائی ناجائز‘‘ قرار دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
JAPAN, TRANSGENDER, TOILET BAN, WOMEN TOILET, TOKYO, COURT ORDER, MEN,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube