ہوم   > بین الاقوامی

کیا کربلا جانے والے درخت ایران میں پیاسے مرجائیں گے؟

SAMAA | - Posted: Dec 10, 2019 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 10, 2019 | Last Updated: 1 month ago

کربلا کے زائرین کو چھائوں کی فراہمی کے لئے پاکستان سے عراق بھجوائے جانے والے درخت ایرانی سرحد پر روک لئے گئے جس کے باعث قیمتی درختوں کے مرجھانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

بوہرا برادری سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی بزرگ محمدی دربار نے زیارت کیلئے کربلا معلیٰ جانے والے زائرین کو راستے میں سایہ فراہم کرنے کی غرض سے پودوں اور درختوں کی پہلی کھیپ زمینی راستے سے ایک ٹریلر کے زریعے ایران کے راستے عراق بھجوائی تھی تاہم ایرانی سرحد میر جاوہ پر 10 ہزار درختوں کی یہ کھیپ 2 دسمبر سے رکی ہوئی ہے۔

محمدی دربار نے منگل 10 دسمبر کو عراق سے بزریعہ فون سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ تمام اجازت نامے اور کاغذی کارروائی کے باوجود میر جاوہ پر موجود متعلقہ اہلکار درختوں کو اپنی منزل کی جانب بڑھنے نہیں دے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے تو ان درختوں جن میں نیم، گل مہر سمیت 8 افسام کے درخت شامل ہیں کو تجزیے کی خاطر روکا گیا کہ مبادا ان میں کوئی بیماری نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ مطلوبہ ٹیسٹ کے بعد وہ درخت مکمل صحت مند اور بیماری سے پاک ثابت بھی ہوگئے پھر بھی ایرانی حکام ٹرک کو آگے جانے نہیں دے رہے۔

پاکستانی بزرگ نے شکایت کی کہ وہ اس سلسلے میں ایرانی سفارت خانے سے بھی کئی مرتبہ رابطہ کرچکے ہیں جہاں حکام کا کہنا ہے کہ ہم بارڈر پر پیغام بھیج رہے ہیں یہ معاملہ حل ہوجائے گا لیکن اس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

محمدی دربار نے بتایا کہ وہ عراق کے شہر نجف اور کربلا کے درمیان 80 کلومیٹر (50 میل) طویل زائرین کے راستے میں تقریباً 50 ہزار درخت لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ اربعین کے موقع پر مذہبی عقیدت و جذبے سے سرشار لاکھوں مسلمان زیارت کیلئے نواسہ رسول ﷺکے روضے پر حاضری دیتے ہیں۔ زائرین امام حسینؓ کے چہلم کے موقع پر پیدل چلتے ہوئے نجف سے کربلا جاتے ہیں جو مشی کہلاتا ہے۔ وہ تمام راستہ سائے سے عاری ہے جس سے زائرین کو راستے کی دیگر صعوبتوں کے علاوہ تپتی دھوپ اور گرمی کی شدت بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔

اس بات کا احساس کرتے ہوئے محمدی دربار نے اس متبرک راستے پر درخت لگانے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں عراق جاکر وہاں کے عہدیداروں سے بات بھی کی جنہوں نے منصوبے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے نجف میں تجرباتی طور پر کچھ درخت بھی لگائے جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔

محمدی دربار نے بتایا کہ یہ درخت موسم سرما میں بغداد میں ایک نرسری میں رکھے جائیں گے اور انہیں مارچ میں لگایا جائے گا جبکہ درختوں کی باقی ماندہ کھیپ بھی مارچ تک عراق روانہ کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کلومیٹر
کے راستے میں 680 درخت لگیں گے۔ انہیں نے بتایا کہ 10 کلومیٹر کے علاقے میں درخت لگنے میں 4 سے 6 ماہ صرف ہوجاتے ہیں۔ انہیں نے بتایا کہ ان تمام درختوں کے لگنے اور ابتدائی دیکھ بھال میں 3 برس کاعرصہ لگے گا جس کی نگرانی وہ خود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 سال بعد پھر درختوں کو زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوگی اور وہ خو پروان چڑھتے اور ہرے بھرے رہیں گے۔ اس منصوبے پر محمدی دربار کے کروڑوں روپے صرف ہوں گے تاہم ان کی نظر میں اس رقم کی کوئی حیثیت نہیں کیوںکہ یہ ایک نیک اور عظیم مقصد کے لئے خرچ ہو رہے ہیں۔

محمدی دربار نے کہا کہ وہ بدھ 11 دسمبر تک انتظار کریں گے اور اگر تب تک بارڈر حکام نے درختوں کی کھیپ کو آگے بڑھنے نہیں دیا تو پھر ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا کہ وہ ایرانی حکام کا گرین سگنل ملنے تک اس کھیپ کو واپس تافتان بھجوا کر وہاں ان کی دیکھ بھال کا کوئی انتظام کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مرجھا جانے کے باعث ان تمام درختوں کی موت واقع ہوجائے گی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube