ہوم   > بین الاقوامی

بچی پر تشدد کی ویڈیو کا معمہ حل، والدین گرفتار

4 weeks ago

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جو خفیہ طریقے سے بنائی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک خاتون 5 سال کی بچی کو بالوں سے پکڑ کر چپل سے مار رہی ہے۔

بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو پاکستان کی ہے اور خاتون پاکستانی ہے مگر کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ خاتون کا تعلق انڈیا سے ہے۔

بھارتی کالم نگار طارق فتح نے ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پاکستان میں ہوا ہے اور دعویٰ کیا کہ پنجابی خاندانوں میں اس قسم کی سخت سزائیں معمول کی بات ہے۔

بھارتی صحافی آدیش راول نے دہلی پولیس سے اس ویڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

اس بارے میں سماء ڈیجیٹل نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا جس میں عوام سے گزارش کی گئی کہ اس خاتون اور بچے کو ڈھونڈنے میں مدد کی جائے۔

اینکر پرسن کرن ناز نے اس ویڈیو میں والدین سے بھی گزارش کی کہ اپنی فرسٹریشن بچوں پر نہ نکالا جائے کیوں پر اس کے دیرپا نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دوسری جانب جموں و کمشیر کے ایک میڈیا ہاؤس جموں لنکس نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون اور بچے کو شناخت کرلیا گیا ہے اور ان کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کاٹھوا سے ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو تشدد کا نشانہ بننے والی بچی کے باپ نے 2 ماہ قبل چھپ کر بنائی مگر کشمیر میں انٹرنیٹ منقطع ہونے کی وجہ سے حال ہی میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی۔

انڈین چائلڈ ویلفیئر بورڈ نے بچی کے ماں باپ پر مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

گرفتار جوڑے کے ایک پڑوسی نے ’جموں لنکس‘ کو بتایا کہ ان کے دو بچے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان روزانہ لڑائی ہوتی اور پھر بچوں پر بھی تشدد کرتے رہتے تھے۔

بچوں پر تشدد کا یہ واحد واقعہ نہیں ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں والدین کا بچوں پر تشدد ’معمول کی بات‘ سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں صرف سندھ، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی ہے مگر ان علاقوں میں بھی صرف ان سزاؤں پر پابندی ہے جس میں ’گہری جسمانی چوٹ‘ کا خدشہ ہو۔

خیبر پختونخوا کا قانون میں بچوں کے جسمانی سزا پر پابندی تو ہے مگر ’مناسب سزا‘ کی اجازت دیتا ہے۔

آپ کیا مدد کرسکتے ہیں

اگر آپ کے سامنے والدین، مدارس یا اسکول کے اساتذہ سمیت کوئی بھی شخص بچوں پر تشدد کر رہا ہے تو آپ درج ذیل اداروں کو اس کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ یہ تمام ادارے بچوں کے حقوق پر کام کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر آپ بچوں پر تشدد سے متعلق ان اداروں اور شخصیات کو متوجہ کرسکتے ہیں۔

 

2 Comments

  1. Avatar
      Yasir akram  November 18, 2019 8:15 pm/ Reply

    یہ تحقیق صحیح نہیں یہ مارنے والی ماں نہیں کیونکہ وہ بچی امی جی بچاٶ کی آوازیں نکال رہی ہے۔جس سے پتا چلتا ہے کہ اسکی ماں کوٸی اور ہے ۔
    اور اس ویڈیو کی آڑ میں مناسب سزا کے پیچھے پڑنے کے بجاۓ ایسی حرکتوں پہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے جو وحشیانہ طریقے سے مار رہے ہیں۔مناسب سزا دینے کا حق رکھنا چاہٸے اسکی کبھی ضرورت ہوسکتی ہے۔۔مناسب مطلب بقدر ضرورت۔۔۔

  2. Avatar
      فیصل مصطفے  November 21, 2019 2:33 pm/ Reply

    اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد آج تک دل افسردہ ہے, انتہائی وحشیانہ, جاھلانہ اور غیر انسانی سلوک ہے, بچیاں پھولوں سے زیادہ نازک طریقے سے پالی جانے کی مستحق ہیں, اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاھئے, یہ عورت بظاہر اس بچی کی ماں نہیں لگ رہی, ملازمہ, سوتیلی ماں یا کوئی ایسی رشتہ دار ہو سکتی ہے جس کے ذمہ بچی چھوڑ دی گئی اور وہ اس کے ماں باپ سے بغض ہونے کی وجہ سے غصہ بچی پر اتار رہی ہے۔

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں