ہوم   > بین الاقوامی

بھارتی فوج کاسابق افسرمقبوضہ کشمیرمیں خواتین کی عزتیں پامال کرنےکاحامی

3 weeks ago

بھارتی فوج کے ایک سابق افسر کو مقبوضہ کشمیرمیں خواتین کی عزتیں پامال کرنے کی حمایت پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ٹی وی 9 بھرت ورش پر کشمیری پنڈتوں کے خروج کے سلسلے میں ہونے والی ایک بحث کے دوران میجر جنرل (ر) ایس پی سنہا چیخ اٹھے “موت کے بدلے موت،بلتکار (عصمت دری ) کے بدلے بلتکار۔

اينکر اور شرکاء کے اعتراض کے باوجود ريٹائرڈ ميجر جنرل ايس پی سنہا نے غیراخلاقی باتیں جاری رکھیں۔

مقبوضہ کشمير کی خواتين کی عزتيں پامال کرنے سے متعلق کھلی حمایت پر معروف شخصیات، سیاستدانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ایسے الفاظ کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے صدرعارف علوی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’’مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی قسمت کا تصورکریں جہاں ایسے مرد مکمل استثنیٰ کے ساتھ اپنی طاقت استعمال کرتے ہیں ‘‘۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے اپنی ٹویٹس میں سابق بھارتی فوجی افسر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا کارندہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے ایسے ذہنی بیماروں کیخلاف سخت ردعمل کا مطالبہ کیا۔

فردوس عاشق اعوان نے لکھا کہ ایسے بیانات قاتل وغاصب مودی حکومت کے دعوؤں کی کھلی تردید ہیں کہ کشمیر میں زندگی معمول پرآگئی ہے۔ فسطائیت سے بھرپور سوچ مودی کے نازی ازم کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظيم ہيومن رائٹس واچ بھی بھارتی فوج کی اس ذہنیت کو بے نقاب کرچکی ہے۔ ايچ آر ڈبليو کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج مقبوضہ کشمير ميں مزاحمت کو کچلنے کے ليے خواتين سے زيادتيوں کاحربہ استعمال کرتی ہے۔

کشمير ميڈيا سروس کے مطابق 1989 سے اب تک مقبوضہ وادی ميں 11 ہزار سے زائد خواتين کی عصمت دری يا ان سے بدسلوکی کی جا چکی ہے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں