ہوم   > بین الاقوامی

اس کتے کی خاص بات کیا ہے ؟؟

4 weeks ago

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس تصویر میں نظر آنے والے خوبصورت کتے کی خاص بات کیا ہے ؟

چلیں نہیں معلوم تو ہم آپ کو بتا دیتے ہیں ، کہ اس کتے کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے طاقت ور ترین صدر ڈونلنڈ ٹرمپ نے اس کتے کے کارنامے پر اسے وائٹ ہاؤس کا مہمان بھی بنایا۔

جی ہاں یہ کتا وہی ذہین اور پھرتیلا کتا ہے جس نے داعش کے سابق سرغنہ ابو بکر البغدادی کی کھوج لگائی اور کمانڈوز کو اس کے ٹھکانے تک پہنچایا۔

اس کتے کو کونن کا نام دیا گیا ہے، تاہم یہ اس کا اصل نام نہیں، شناخت چھپانے کیلئے اسے فی الحال کونن کہا جاتا ہے۔ جو ابو بکر البغدادی کے خلاف اسپیشل کمانڈوز کے ساتھ آپریشن کا حصہ تھا۔ امریکی صدر نے ریاست لوزیانا میں خطاب کے دوران اس کتے کو عظیم ہیرو بھی قرار دیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اکتوبر کے آخر میں امریکی کمانڈوز کی جانب سے شمالی شام میں ابوبکر البغدادی کے خلاف کیے گئے آپریشن میں کونن زخمی ہوگیا تھا تاہم وہ اب دوبارہ کام پر واپس آگیا ہے۔

ابوبکر البغدادی کے خلاف کامیاب آپریشن کے فوراً بعد پینٹاگون اور صدر ٹرمپ نے امریکی کمانڈوز کا ساتھ دینے والے اس کتے کی تصاویر جاری کی تھیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی کے مطابق یہ کتا اسپیشل آپریشنز کمانڈ (ایس او کام) میں گزشتہ 4 سال سے کام کر رہا ہے اور اب تک تقریباً 50 آپریشنز کا حصہ رہ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابوبکر بغدادی کے خود کش دھماکا کرنے کے بعد یہ کتا سرنگ میں پڑی تاروں کی وجہ سے زخمی ہو گیا تھا۔

اپنی خلافت قائم کرنے والا

 ابوبکر البغدادی کو 26 اکتوبر کے روز شمالی شام میں اسپیشل فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا، جس کے بعد ان کی لاش کو بھی سمندر برد کر دیا گیا تھا۔ جنرل میلی نے میڈیا کو بتایا کہ ‘ابوبکر البغدادی کی باقیات کو ایک محفوظ مقام پر لایا گیا تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان کی شناخت کو یقینی بنایا جا سکے۔ شناخت کے بعد ان کی باقیات کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔’

 

البغدادی سال 2014 میں اس وقت نمایاں ہوا جب اس نے شام اور عراق کے علاقوں میں ’خلافت‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ دولتِ اسلامیہ نے دنیا بھر میں کئی حملے اور جنگجوانہ کارروائیاں کیں اور ہزاروں افراد کو قتل اور ہلاک کیا۔ اس گروہ نے اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں رہائش پذیر تقریباً 80 لاکھ افراد پر ایک سخت گیر حکومت قائم کر رکھی تھی اور یہ دنیا کے کئی شہروں میں ہونے والے حملوں میں ملوث رہی۔

ابوبکر کہاں پیدا ہوا؟

منطر عام پر آنے والی رپورٹس کے مطابق ابو بکر سال 1971 میں بغداد کے شمالی علاقے سامرہ میں پیدا ہوا۔ ان کا اصل نام ابراہیم العود البدری تھا۔ جب سال2003 میں امریکا کی زیرِ قیادت عراق پر حملہ کیا گیا تو وہ اسی شہر کی ایک مسجد میں امام تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سابق عراقی رہنما صدام حسین کے دورِ حکومت میں ہی جنگجو بن گیا تھا، تاہم کچھ دیگر افراد کا کہنا ہے کہ وہ بوکا میں گزارے گئے وقت کے دوران انتہا پسند خیالات کی جانب مائل ہوا۔ جنوبی عراق میں قائم اس امریکی کیمپ میں کئی القاعدہ کمانڈروں کو قید میں رکھا جاتا تھا۔

 

سال 2010 میں وہ دولتِ اسلامہ میں ضم ہوجانے والے گروہوں میں سے ایک القاعدہ کے عراق میں رہنما کے طور پر سامنے آیا اور شام میں النصرہ فرنٹ کے ساتھ ضم کی کوشش کے دوران اس نے شہرت حاصل کی۔ اس سال کے اوائل میں دولتِ اسلامیہ نے ویڈیو بھی جاری کی جو اس گروہ کے مطابق بغدادی کے تھی۔ یہ 2014 میں موصل میں ان کے اُس خطاب کے بعد سامنے آنے والی پہلی ویڈیو تھی جس میں انھوں نے شام اور عراق کے حصوں میں ‘خلافت’ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

 

طاقت اور اثر کمزور ہونے پر ابوبکر البغدادی گزشتہ 5 سالوں سے زیرزمین تھا۔ دولت اسلامیہ کے میڈیا ونگ الفرقان کی جانب سے اس سے قبل متعدد بار ابو بکر کی ہلاکت کی تردید کی گئی اور ویڈیوز جاری کی گئیں۔ فروری 2018 میں متعدد امریکی عہدیداروں نے بتایا تھا کہ بغدادی سال 2017 کے ہوائی حملے میں زخمی ہوا ہے۔

دنیا کا مطلوب ترین اور بے رحم دہشتگرد

دولتِ اسلامیہ کے رہنما کو دنیا کا مطلوب ترین شخص تصور کیا جاتا تھا۔ سال 2011 میں امریکا نے اسے باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا اور اسے گرفتار یا ہلاک کرنے میں مدد دینے والی معلومات پر ایک کروڑ ڈالر (اس وقت 58 لاکھ پاؤنڈ) دینے کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں یہ رقم بڑھا کر ڈھائی کروڑ ڈالر کر دی گئی تھی۔ بغدادی ایک انتہائی منظم اور بے رحم جنگی حکمتِ عملی ساز اور جنگجو تھا، جس کی سرپرستی میں متعدد افراد کے زندہ گلے کاٹ کر انہیں بے رحمی سے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا نیا سفاکانہ عمل داعش کے جنگجوؤں میں پروان چڑھا۔

بغدادی کی جاسوسی کیسے ہوئی؟

شامی کردوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بغدادی کا سراغ لگانے میں انہوں نے اہم مدد اور معلومات فراہم کیں تھیں۔ کرد اہلکار نے کہا کہ کردوں کے اندرونی ذرائع نے امریکی فوج کو بغدادی کے ٹھکانے کے بارے میں بتایا اور کمپاؤنڈ کا نقشہ تیار کرنے میں اور اندر موجود لوگوں کی تعداد معلوم کرنے میں مدد فراہم کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرد ذرائع کی مدد سے ہی بغدادی کی شناخت کرنا بھی ممکن ہوا۔ کرد فورسز بغدادی کو ٹریک کرنے اور اس پر قریب سے نظر رکھنے میں 15 مئی سے سی آئی اے کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

 

کردوں کے پاس ایک اندر کا شخص تھا، جو بغدادی کے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اندر سے تمام معلومات فراہم کر رہا تھا۔  بغدادی اکثر اپنے گھر تبدیل کرتا تھا۔

 

انٹیلی جنس کے ذرائع آخری لمحے تک تعاون، ایئر ڈراپ کرنے اور آپریشن میں شامل تھے تاکہ وہ کامیاب رہیں۔ سیکیورٹی فورسز کامیاب آپریشن کے بعد بغدادی کا ” انڈر ویئر ”  بھی ساتھ لائے تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ سے شناخت ثابت ہوسکے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں