ہوم   > بین الاقوامی

بابری مسجد کی متنازع جگہ ہندوؤں کو دے دی گئی

1 week ago

فوٹو: اے ایف پی

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ہندوؤں کو متنازعہ جگہ میں مندر کی تعمیر کرنے کی اجازت اور مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دے دی۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے ایودھیا کے معاملے پر 16 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ بابری مسجد کے دعوے پر سپریم کورٹ نے سنی بورڈ کے خلاف شیعہ وقف بورڈ کی درخواست خارج کر دی جبکہ نرموہی اکھاڑے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا۔

بھارتی عدالت نے زمین کی تین حصوں میں تقسیم کا الہٰ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بلاجواز قرار دیتے ہوئے زمین کی ملکیت ریاست کے پاس رہنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ دونوں فریقین کو برابر کا ریلیف دیا جائے گا۔

عدالتی حکم کے مطابق مرکز متنازعہ جگہ میں رام مندر کی تعمیر کےلیے ٹرسٹی بورڈ کا قیام عمل میں لانے کےلیے 3 ماہ میں ایک اسکیم تشکیل دے گا جب کہ مرکز متنازعہ جگہ کو بورڈ آف ٹرسٹی کے حوالے کرے گا اور ایودھیا میں 5 ایکڑ رقبے کی اراضی کا ایک مناسب متبادل پلاٹ سنی وقف بورڈ کو دیا جائے گا۔

عدالتی ریمارکس میں کہا گیا کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق متنازعہ اراضی سرکاری زمین کی ملکیت ہے اور بابری مسجد خالی زمین پر نہیں بلکہ ہندوؤں کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی لہٰذا قانونی ثبوت پر ہی اس سرزمین کے عنوان کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ 1992 میں مسجد کا انہدام سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی تھی۔

ریمارکس میں کہا گیا کہ مسجد کے نیچے مندر کے آثار آج ملکیت کے دعوے کی بنیاد نہیں بن سکتے یہاں تک کہ اگر سپریم کورٹ کو یہ معلوم بھی ہوجائے کہ یہ ہندو مندر ہے۔ اگرچہ اس میں رکاوٹیں موجود تھیں لیکن مسلمان اندرونی صحن میں نماز پڑھتے رہے۔ لہذا مسلمانوں نے مسجد کو ترک نہیں کیا ہے۔ مسجد کے اندرونی احاطے میں نماز کی ادائیگی کبھی نہیں رکی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا دیا

دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ 1857 سے پہلے ہندوؤں کو اندرونی صحن میں عبادت کرنے سے منع نہیں کیا گیا تھا۔ بیرونی اور اندرونی صحن کو الگ کرنے والی ریلنگس 1857 میں بنائی گئی تھی لیکن ہندو ہمیشہ یہ خیال کرتے تھے کہ رام کی جائے پیدائش مسجد کے اندرونی صحن میں ہے۔ بابری مسجد میر باقی نے تعمیر کروائی تھی جب کہ 1949 میں اس عمارت میں دیوتا کے بت رکھے گئے۔

اجمیر درگاہ

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اجمیر درگاہ کے روحانی سربراہ سید زین العابدین نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور درخواست کی لوگ امن اور ہم آہنگی برقرار رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے سامنے اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے کیونکہ آج پوری دنیا ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے‘‘۔

سیکیورٹی انتظامات

فيصلے کے موقع پر رياست اترپرديش ميں تمام تعليمی ادارے بند رکھے گئے۔ مہاراشٹرا، کرناٹک اور گجرات سميت بھارت کی متعدد ریاستوں میں اضافی سیکیورٹی تعينات کی گئی۔ اتوار 17 نومبر کو جج کی ريٹائرمنٹ کے باعث کيس کا فيصلہ آئندہ ہفتے سنايا جانا تھا مگر پھر اچانک تاريخ تبديل کی گئی۔

پسِ منظر

تین سال قبل بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد کیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیر لیڈر لال کرشن ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت مختلف رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش رچانے کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

 مئی 2011 میں الہٰ آباد ہائی کورٹ نے 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کو تین فریقوں رام للا، نرموہی اکھاڑہ اور سنی وقف بورڈ میں برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا جس کو سپریم کورٹ نے معطل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ 6 دسمبر 1992 کو ايودھيا ميں بابری مسجد کو شہيد کيا گيا تھا اور اس کی جگہ مورتياں نصب کر دی گئی تھيں۔ مرکزی حکومت نے تحفظ کے نام پر يہاں قبضہ کرليا تھا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
India, Babri Masjid, verdict, Ayodhya, Supreme Court, historic judgment, Muslim, Hindu