ہوم   > بین الاقوامی

مہاتیرمحمد کاکشمیر سے متعلق بیان سے پیچھے ہٹنے سے انکار

4 weeks ago

مہاتير محمد نے مقبوضہ کشمير سے متعلق بیان پر پیچھنے ہٹنے سے انکار کردیا، بھارتی دباؤ مسترد کرتے ہوئے ملائیشین وزیراعظم نے کہا کہ انڈین کمپنياں ملائيشيا سے پام آئل کی درآمد بند کرتی ہيں تو کرديں، میں مقبوضہ کشمير سے متعلق بيان پر قائم ہوں۔

کوالالمپور ميں ميڈيا سے گفتگو ميں ملائیشین وزیراعظم مہاتير محمد نے اقوام متحدہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ وہ دل سے بات کرتے ہيں اور اپنے بيان سے پيچھے نہيں ہٹتے، مقبوضہ کشمير کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے، ورنہ اقوام متحدہ کا فائدہ ہی کيا ہے۔

ملائیشین وزیراعظم مہاتير محمد نے ستمبر میں ہونیوالی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس ميں بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمير کی خصوصی حيثيت ختم کرنے کو کشمیریوں پر حملہ قرار ديا تھا۔

مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ بھارت نے متنازع علاقے کشمیر میں حملہ کرکے اس پر قبضہ کر رکھا ہے۔

مہاتير محمد کے کشمیر سے متعلق بيان پر بھارتی کمپنیوں نے ملائيشيا سے تجارتی تعلقات محدود کرنے کی دھمکياں دیں۔

ویجیٹبل آئل یا خوردنی تیل کی تجارت کرنیوالوں کی سب سے بڑی بھارتی تنظیم نے پیر 21 اکتوبر کو اپنے ارکان پر زور دیا تھا کہ وہ ملائیشیا سے پام آئل کی خرید کا سلسلہ روک دیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق مہاتیر محمد نے بھارتی تاجروں کی طرف سے ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد کے بائیکاٹ کو تجارتی جنگ سے تشبیہ دی تھی۔ خیال رہے کہ ملائیشیا پام آئل پیدا کرنیوالا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ بھارت اس تیل کے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 1948ء اور 1950ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع خطے جموں و کشمیر سے متعلق کئی قرار دادیں منظور کیں، جن میں یہ قرار داد بھی شامل کہ اس خطے کے عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
INDIA, KASHMIR, PAKISTAN, MALAYSIA, PALM OIL, TRADE WAR, UN, MAHATHIR MOHAMAD،