ہوم   > بین الاقوامی

ٹرمپ کا ترک صدرکے نام دھمکی آمیز خط سامنے آگیا

1 month ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوان کو لکھا گیا دھمکی آمیز خط منظر عام پر آگیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی کے آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترک صدر کو لکھا گیا دھمکی آمیز خط منظر عام پر آنے کے بعد امریکی حکام میں تشویش کی لہر۔

امریکی ٹی وی کے مطابق خط اتنا عجیب تھا کہ وائٹ ہاؤس سے اس کے حقیقی ہونے کی تصدیق بھی جاری کرنا پڑی۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط میں ترک ہم منصب کو لکھا تھا کہ آپ ہزاروں افراد کو مارنے کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتے، میں بھی ترک معیشت تباہ کرنے کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتا۔

کرد ملیشیا کیخلاف کارروائی،ترکی جنگ بندی پرراضی

ٹرمپ نے طیب ایردوان کو لکھا کہ میں نے آپ کے کئی مسائل حل کیے، دنیا کو نیچا نہ دکھائیں، آپ ایک عمدہ سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ جنرل مظلوم اپ سے مذاکرات کیلئے بھی تیار ہیں۔

جنرل مظلوم

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنرل مظلوم کرد افواج کے کمانڈر ہیں۔ ایس ڈی ایف کے کمانڈر جنرل مظلوم کو بانی عابدی نے ترکی کے فوجی آپریشن کو شامی کردوں کے وجود کے لیے خطرہ بھی قرار دیا تھا۔

یہ خط رواں ماہ 9 اکتوبر کو لکھا گیا تھا۔ خط کے اختتام میں دستخط بھی موجود ہیں۔ عام رائے یہ ہے کہ ترکی ایک عرصے سے ایس ڈی ایف پر حملے کی دھمکی دیتا آیا ہے کیونکہ وہ اسے ترکی میں کردوں کے علیحدگی پسند گروہ کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔

علیحدگی پسند کرد ترکی کے ساتھ کئی دہائیوں سے لڑتے رہے ہیں۔ ترک حکومت نے کہا ہے کہ اس کے فوجی آپریشن شروع کرنے کا مقصد شام کی سرحد پر محفوظ علاقے‘ کا قیام ہے جو ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں سے آزاد ہو۔

شام اور ایس ڈی ایف کا معاہدہ

شام اور ایس ڈی ایف کے درمیان ایک معاہدہ بھی بے پایا تھا جس کے بعد دونوں فریقین نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شام اور ترکی کے درمیان قائم سرحد پر شامی فوج کو تعینات کیا جائے گا، ایس ڈی ایف نے ترک حملوں کو روکنے کیلئے شام کا ساتھ دیا۔

موجودہ صورت حال میں شام کے شمال اور مشرق میں ایس ڈی ایف کا ملک کے تقریباً ایک تہائی علاقے پر کنٹرول ہے۔ سال 2011 میں خانہ جنگی کے آغاز کے فوری بعد کردوں نے کرد اکثریتی علاقوں کا کنٹرول حکومت سے لے لیا تھا لیکن حکومت کے ساتھ براہ راست لڑائی سے بڑی حد تک گریز کیا گیا۔

اس کے بعد ایس ڈی ایف نے داعش سے آزاد کرائے گئے علاقوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا تھا۔

گزشتہ چند برس کے دوران ایس ڈی ایف نے اپنے زیر انتظام علاقوں میں متبادل حکومت قائم کر لی تھی جس کا حتمی مقصد ایک ایسی خود مختار انتظامیہ کا قیام تھا جو جنگ کے بعد بھی قائم رہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں