ہوم   > بین الاقوامی

ترکی کردوں کیخلاف جنگ بندی پر رضامند

SAMAA | - Posted: Oct 18, 2019 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 18, 2019 | Last Updated: 3 months ago

کرد کے مسئلے پر امریکی نائب صدر مائیک پینس نے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان سے 3 گھنٹے طویل ملاقات میں سیز فائر پر اتفاق کرلیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوان سے نائب امریکی صدر مائیک پنس کی 3 گھنٹے طویل ملاقات میں بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ امریکا نے ترکی کی شرائط تسلیم کرلیں، جب کہ کرد ملیشیا کے انخلاء کے لئے 120 گھنٹے کے سیز فائر پر اتفاق بھی کرلیا۔

اطلاعات کے مطابق شمالی شام اور ترک سرحد کے درمیان 30 کلو میٹر طویل سیف زون بنایا جائے گا، جب کہ ترک فوج کا ہدف بھی یہ ہی تھا۔ ترکی کی جانب سے جنگ بندی پر رضا مندی کے بعد کردوں کو وہاں سے نکلنے کا موقع مل سکے گا۔

 

امریکا اور ترکی کے درمیان جنگ بندی سے متعلق معاہدہ دارالحکومت انقرہ میں طے پایا گیا۔ البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ کرد جنگجوؤں کی تنظیم وائی پی جی اس معاہدے کو پورا کرے گی یا نہیں۔

دونوں کے درمیان اہم پیش رفت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وفد کی انقرہ آمد کا ایک منظر

کرد جنگجوؤں کے رہنما کمانڈر مظلوم کوبانی نے کہا ہے کہ کرد مسلح گروپ سرحد کے نزدیک موجود قصبے راس العین اور تال ابیاد کے درمیان علاقے کی حد تک اس معاہدے کی پابندی کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دیگر علاقوں کے بارے میں ابھی تک بات نہیں کی گئی ہے۔

کرد ترک لڑائی کا مقصد کیا؟

چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام اور ترکی کی سرحد کے پاس موجود امریکی فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد ترکی نے سرحد پار جارحیت کا آغاز کر دیا۔

 

اس پیش قدمی کا مقصد سرحد پار کرد مسلح گروہ پیپلز پروٹیکشن یونٹ یعنی وائی پی جے کو پیچھے دھکیلنا تھا جسے ترکی کی قیادت وائی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں جو ترکی میں گزشتہ 3 دہائیوں سے کردستان کی خود مختاری کیلئے مسلح جدوجہد کر رہی ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube