ہوم   > بین الاقوامی

شام میں فوجی آپریشن: ترک صدر امریکی وفد سےملاقات کیلئےآمادہ

SAMAA | - Posted: Oct 17, 2019 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 17, 2019 | Last Updated: 3 months ago

فوٹو: اے ایف پی

ترک صدر رجب طيب اردوان امريکی وفد سے ملاقات پر آمادہ ہوگئے تاہم شمالی شام ميں جاری آپریشن بند کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

امريکی اخبار کے مطابق نائب صدر مائيک پنس، وزير خارجہ مائيک پومپيو اور قومی سلامتی کے مشير رابرٹ اوبرائن انقرہ ميں ترک صدر سے ملاقات کريں گے تاہم طيب اردوان نے شمالی شام ميں جاری آپريشن ’بہار امن‘ بند کرنے کا امريکی مطالبہ مسترد کر ديا ہے۔

ترک صدر کا کہنا ہے کہ تل ابيض، راس العين اور کوبانی کو سيف زون بنانے تک فوجی کارروائياں جاری رہيں گی۔ ترک صدر نے کرد مليشيا کے ساتھ مذاکرات سے بھی انکار کر ديا ہے۔

ترکی شام میں کبھی جنگ بندی کااعلان نہیں کریگا، اردوان

صدر ٹرمپ کی جانب سے طيب اردوان کو لکھا گيا 9 اکتوبر کا خط بھی منظر عام پر آگيا ہے جس ميں ٹرمپ کی جانب سے شمالی شام کے معاملے پر ترک صدر سے نرمی برتنے کا مطالبہ کيا گيا ہے۔

امريکی صدر نے خط ميں لکھا ہے کہ ’’اگر شام ميں کارروائی اچھی نہ ہوئی تو تاريخ اسے شيطان کی نظر سے ديکھے گی اور آپ نے اسے بھلائی کے طور پر کيا تو تاريخ آپ کو اچھی نظر سے ياد رکھے گی۔ دنيا کو نيچا مت دکھاؤ، سخت آدمی بنو اور نہ ہی بيوقوف۔ آپ ہزاروں افراد کو ذبح کرنے ذمہ دار نہيں بننا چاہتے اور نہ ہی ميں ترک معيشت کو تباہ کرنے کا ذمہ داربننا چاہتا ہوں۔ دنيا کو مايوس نہ کريں آؤ مل کر ايک اچھا سودا کريں‘‘۔

خط ميں ڈونلڈ ٹرمپ نے طيب اردوان کو جلد فون کرنے کا عنديہ بھی ديا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
Donald Trump, Erdogan, Syria, US delegation, military action
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube