Tuesday, December 1, 2020  | 14 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

کیا نیٹو اتحادی ترکی کیخلاف جنگ چھیڑ دوں؟ ٹرمپ کا سوال

SAMAA | - Posted: Oct 14, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Oct 14, 2019 | Last Updated: 1 year ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے معاشی پابندیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 200 سال سے جاری جنگوں میں نہیں کودنا چاہتے۔ ٹرمپ نے مخالفین سے سوال کیا کہ کیا ایک نیٹو اتحادی ملک ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ دوں۔

امریکی فوج کی شام سے انخلا کے بعد ترکی نے کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔ ایردوان کا کہنا ہے کہ کرد جنگجو شام کے سرحدی علاقوں میں بیٹھ کر ترکی میں پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔

کرد جنگجو ترکی سے علیحدگی کیلئے طویل عرصہ سے برسرپیکار ہیں جبکہ شام میں جاری حالیہ لڑائی کے دوران امریکی فوج اور کردوں نے ملکر داعش کے خلاف جنگ لڑی۔ اس سے پہلے بھی کردوں کو امریکی حمایت حاصل رہی ہے۔

کردوں کے خلاف ترکی کی جانب سے حالیہ آپریشن کے بعد امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین ان کو طعنہ دے رہے ہیں کہ اپنے اتحادی کو ترکی کے سامنے ’بے یار و مدگار‘ چھوڑ دیا۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے ترکی کے خلاف امریکی فوج کو میدان میں اتارنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مخالفین کی مسلسل تنقید کے باجود ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے ساتھ فوجی جھڑپ سے گریز کا راستہ اختیار کرتے ہوئے معاشی پابندیوں کی دھمکیاں دیں۔

پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایک بار پھر ان لوگوں کی لڑائی میں نہیں کود رہے جو 200 سال سے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ یورپ کے پاس اچھا موقع تھا کہ وہ اپنے ان شہریوں کو قبول کرتا جو داعش میں لڑتے ہوئے گرفتار ہوئے مگر یورپی ممالک نے یہ سوچ کر موقع ضائع کردیا کہ امریکا ہی معاملات سنبھالے۔

ٹرمپ نے کہا کہ کیا لوگ ہمیں ایک نیٹو اتحادی ترکی کے خلاف جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں کا اب خاتمہ ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے خلاف فوجی محاذ آرائی کو تو خارج از امکان قرار دیا مگر ساتھ ہی ’بڑی معاشی پابندیوں‘ کا اعلان کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube