ہوم   > بین الاقوامی

شام میں کارروائی: ایردوان نے عالمی دباؤ مسترد کردیا

1 month ago

ترکی کا 228 کرد ہلاک کرنے کا دعویٰ

شام ميں کردوں پرترکی کے حملے جاری ہیں۔ ترک میڈیا نے 228  کردوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں معاملہ ختم کرنے کے لیے ترکی کیخلاف فوجی کارروائی، اقتصادی پابندیاں اور مذاکرات میں ثالثی کے آپشنزموجود ہیں۔

شمالی شام میں ترک فوج اور ایس ڈی ایف میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ کرد ملیشیا نے تل ابیض کا اہم علاقہ ترک فوج سے واپس لے لیا اور راس العین کے متعدد اہم مقامات بھی ترکی کی حامی ملیشیا سے آزاد کرالیے۔

ترک میڈیا کے مطابق قامشلی میں زمینی کارروائی کے دوران گولہ باری اور بمباری میں درجنوں دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ترکی کی وزارتِ دفاع نے اپنے کئی فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف شامی حدود میں تیس کلومیٹر تک داخل ہونا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ترکی کی فوجی کارروائی کو حملہ قرار دیا گیا تو 36 لاکھ شامی مہاجرین کے لیے یورپ کے دروازے کھول دیں گے۔

ایردوآن نے سعودی عرب کی تنقید کوناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاض پہلے یمن میں ہونے والی اموات اور تباہی کا جواب دے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر فریقین کو ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے لکھا کہ معاملہ ختم کرانے کیلیے امریکا ہزاروں فوجی شام بھیج کر ترکی کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے جبکہ معاشی پابندیاں لگا کر نقصان پہنچانے کا آپشن بھی موجود ہے۔

دوسری جانب عرب لیگ نے صورتحال کے پیش نظر کل ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ لیگ کے سیکریٹری جنرل حسام زکی نے کہا ہے کہ رکن ملک پرغیرملکی حملہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں