ہوم   > بین الاقوامی

امریکا: 93 خواتین کے قاتل ’’سیریل کلر‘‘ کا اعتراف جرم

1 week ago

امریکا کی تاریخ میں سب سے زیادہ لوگوں کو قتل کرنے والے سیریل کلر نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا۔ 79 سالہ قاتل نے 30 سے زائد سالوں کے دوران 93 خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری اطلاعات کے مطابق فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے مطابق 79 سالہ سیریل کلر سیمیوئل لٹل نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے 35 سالوں میں 100 سے زائد افراد کو قتل کیا، جس میں 93 خواتین شامل ہیں۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے سیموئل لٹل کے اعترافات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق اس نے سال 1970 سے 2005 تک93 خواتین سمیت کئی افراد کا قتل کیا اور قتل کے بعد اُن کے خاکے بھی بنائے۔

فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کا کہنا ہے سیموئل لٹل کی جانب سے جاری کیے گئے خاکوں کی مدد سے مقتولین کی شناخت کی جائے گی۔ تاہم ان میں سے کچھ کی شناخت ہوگئی ہے۔

ایف بی آئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک سیموئل لٹل کے 50 افراد کے قتل کرنے کی تصدیق ہوئی ہے، لیکن تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ قاتل کےدیگر93 سمیت 100 سے زائد افراد کے قتل کے اعترافات درست ہیں۔ ایف بی آئی کی جانب سے قتل کیے گئے تمام افراد سے متعلق ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے، جس میں ان افراد کی تصاویر اور اب تک کی حاصل کردہ معلومات دی گئی ہیں۔

ایف بی آئی کی بنائی گئی ویب سائٹ پر ان لوگوں کے وہ خاکے بھی جاری کیے گئے ہیں جو سیموئل نے خود بنائے تھے۔ ان میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔

ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر تفصیلات جاننے کیلئے یہاں کلک کریں

ایف بی آئی تجزیہ کار کرسٹی پلازولو کا کہنا ہے کہ بہت سالوں تک سیموئل لٹل کا ماننا تھا کہ اُسے پکڑا نہیں جائے گا کیونکہ کسی نے اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرایا تھا۔ اس کے علاوہ زیادہ تر ہلاکتوں کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ حادثاتی طور پر ہوئیں ہیں یا ان کی وجہ معلوم نہ ہوسکی جبکہ کچھ لاشیں کبھی ملی ہی نہیں ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2014 میں سیموئل لٹل کو 3 خواتین کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔ ایف بی آئی تجزیہ کار کرسٹی پلازولو نے یہ بھی بتایا کہ سیموئل لٹل ابھی صرف 3 خواتین کے قتل کے جرم میں جیل میں ہے لیکن ایف بی آئی کا ماننا ہے کہ ہر مقتول کے لیے انصاف ضروری ہے تاکہ کیس بند ہو سکے۔

ماضی میں باکسر رہنے والے سیموئل لٹل جنہیں سیموئل مکڈوول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو پہلی بار 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ امریکی ریاست کنٹکی میں بے گھر افراد کے لیے بنی ایک پناہ گاہ میں رہتا تھا۔ وہ پہلی مرتبہ منشیات کے الزام میں گرفتار ہوا اور کیلی فورنیا کی جیل بھیج دیا گیا۔

 

کیلی فورنیا میں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد مزید 3 کیسز سامنے آئے، جس کے بعد اسے 1987 سے 1989 کے درمیان کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں 3 عورتوں کے قتل کے جرم میں سزا سنائی۔ سیموئل لٹل نے تینوں خواتین کو تشدد کے بعد اُن کا گلا دم کر قتل کیا تھا۔

 

نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں سیموئل کا کہنا تھا کہ اس کا شکار عموماً ایسی خواتین ہوتی تھیں جو کمزور، اکیلی اور آسانی سے شکار ہوسکتی تھی۔ ایسی خواتین خود چل کر اس کے مکڑی کے جالے میں آجاتی تھیں۔

 

ٹیکساس رینجرز جیمز ہالینڈ سے گفتگو میں سیموئل نے سال 2018 میں مختصر طور پر اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ اس سے قبل اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کرنے سے متعلق تحقیقاتی ادارے لا علم تھے۔ تاہم متعدد بار سیموئل نے یہ کوشش کی کہ وہ اپنے آپ کو معصوم ثابت کرسکے۔ مگر بالآخر اس نے امریکا بھر میں 93 خواتین کو قتل کرنے کا اعتراف کر ہی لیا۔

 

نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ہالینڈ نے بتایا کہ سیموئل ایک شاطر اور ذہین قاتل ہے، جس کی تصاویر سے متعلق یاد داشت بہت تیز ہے۔ جب کہ سیموئل نے اپنے انٹرویو میں 93 سے زائد افراد کے قتل پر فخر محسوس کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ جو میں نے کیا وہ پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا ہوگا، میں دنیا میں وہ واحد شخص ہوں، جس نے یہ کیا اور میرے لیے یہ کوئی خوف ناک نہیں بات بلکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک بد دعا ہے۔

 

اس سے قبل گیری رگڈ وے نے 49 افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا، جس کے بعد مزید 20 قتل سامنے آئے۔ گیری کو گرین ریور کلر کا نام دیا گیا تھا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں