Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

ایران کا جنرل قاسم کے قتل کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ

SAMAA | - Posted: Oct 3, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Oct 3, 2019 | Last Updated: 1 year ago

ایران کی انٹیلی جنس ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور عرب خفیہ اداروں نے القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ کے سربراہ حسین تائب نے میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی سازش بے نقاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سازش ’’اسرائیلی، عرب‘‘ انٹیلی جنس سروسز نے تیار کی تھی۔

واضح رہے کہ پاسداران انقلاب ایران کی ایلیٹ فورس ہے جو براہ راست سپریم لیڈر کے ماتحت ہے۔ اس کا انٹیلی جنس ونگ بھی خود مختار ادارہ ہے اور وزارت انٹیلی جنس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

حسین تائب نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ قاسم سلیمانی کو ایران کے جنوب مشرقی صوبہ کرمان میں محرم الحرام کے دوران ایک اجتماع میں شرکت کے موقع پر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ایران میں فرقہ وارانہ فسادات پھیلانا تھا لیکن قتل کیلئے تیار کی گئی ٹیم کے 3 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قتل کا منصوبہ کئی سال سے بنتا رہا اور اس کے لیے وقت کا انتخاب رواں سال محرم میں کیا گیا۔ حسین تائب نے گرفتار افراد کی شناخت کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔

حسین تائب کے مطابق ’ہٹ ٹیم‘ نے کرمان میں اس مقصد کے لیے جنرل قاسم سلیمانی کے والد کی تعمیر کردہ مسجد کے قریب گھر خریدا اور اس میں زیر زمین سرنگ کھود کر اس کو 500 کلو بارودی مواد سے بھردیا۔ منصوبے کے مطابق قاسم سلیمانی کی تقریب میں شرکت کے لیے مسجد میں داخل ہوتے وقت دھماکا کرنا تھا۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ دہشت گردوں کو ٹریننگ کے لیے ایک قریبی ملک بھیجا گیا اور منصوبے پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے ان پر بھاری رقم خرچ کی گئی۔

دوسری جانب اسرائیل نے تاحال اس الزام پر ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ ایرانی عہدیدار نے اگرچہ براہ راست کسی عرب ملک کا نام نہیں لیا مگر ان کا اشارہ ممکنہ طور پر سعودی عرب کی جانب ہوسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

پاسداران انقلاب کی القدس فورس ایران سے باہر جنگی کارروائیوں کی ذمے دار ہے۔ پڑوسی ممالک شام اور عراق میں اس کے تحت ہی شیعہ جنگجو لڑائی کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ اس پر حال ہی میں شام سے اسرائیل پر حملے کی سازش کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ شام میں القدس فورس صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور لبنان کی شیعہ ملیشیا کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑرہی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube