ہوم   > بین الاقوامی

میرے خلاف مواخذہ نہیں بغاوت کی جا رہی ہے،ٹرمپ

1 month ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو بغاوت سے تشبہہ دے دی ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ سے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے خلاف مواخذے کی کارروائی ایک بغاوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس نتيجے پر پہنچا ہوں کہ جو کچھ ہو رہا ہے مواخذہ نہيں بغاوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نینسی پلوسی اور جان بل ایڈورڈ نے کچھ نہیں کیا، مگر ہم جو کر رہے ہیں وہ امریکا کو عظیم بنا رہا ہے۔ انہوں نے جان بل ایڈورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ بے وقوف نہ بنو۔ جان بل ایڈورڈ ہم جیسا نہیں ہو سکتا۔ وقت سے پہلے ہی ووٹ کا آغاز ہوگیا ہے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میں ہر دن کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوں اور چیزوں کا بغور مطالعہ کر رہا ہوں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میرے خلاف جو کارروائی کی جا رہی ہے، وہ مواخذے نہیں بلکہ بغاوت ہے اور اس کا مقصد لوگوں کا ووٹ، ان کی آزادی، دوسری ترمیم، مذہب، فوج، سرحد پر دیوار، اللہ کی طرف سے امریکی عوام کو دیئے گئے حقوق کی طاقت کو چھینا ہے۔

 

دوسری جانب امریکا کے ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کرلیا ہے۔ ایوان کی یہ کمیٹی صدر ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

 

انٹیلی جنس کمیٹی کے ڈیمو کریٹ چیئرمین ایڈم شف نے پیر کو صدر ٹرمپ کے وکیل کو سمن جاری کیا ہے جس میں اُنہیں 15 اکتوبر کو یوکرین سے متعلق دستاویزات کے ہمراہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

 

ایڈم شف نے خط میں روڈی جولیانی سے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران شواہد ملے ہیں کہ آپ نے صدر ٹرمپ کو 2020 کے انتخابات میں ذاتی فوائد پہنچانے کیلئے ایجنٹ کا کردار ادا کیا اور اس مقصد کے لیے صدر کے آفس کے اختیارات کو پامال کیا گیا۔

 

واضح رہے کہ امريکی ايوان نمائندگان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کے اعلان کیا گیا تھا۔ ایوان نمائندگان کی اسپيکر نينسی پلوسی نے امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا اعلان کيا تھا۔ اپنے بیان میں ننیسی پلوسی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ امريکی آئينی اقدار کی خلاف ورزی کر رہے ہيں اور اس پر صدرکو لازمی طور پر جوابدہ ہونا چاہيے۔

 

نینسی پلوسی نے یہ بھی کہا کہ صدر کے اقدامات سے ان کی آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، لہذا ضروری ہے کہ ان کا احتساب کیا جائے۔ کوئی قانون سے بالاتر نہيں۔

 

امريکی صدر نے مواخدے کے اعلان کے بعد ٹويٹ کرتے ہوئے کہا کہ يہ اعلان صدارت کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔ امریکی صدر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا وزیر خارجہ مایئک پومپیو نے یوکرائن کی حکومت سے اس ٹیلی فون کال کی کاپی جاری کرنے کی اجازت لے لی ہے جس میں، میں نے ان کے صدر سے بات کی۔ ان کو بھی نہیں معلوم کے اس میں کیا بڑی بات ہے۔

 

واضح رہے کہ امریکی صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین پر دباؤ ڈالا کہ وہ سال 2020 کے صدارتی انتخابات میں ان کے ممکنہ حریف جو بائیڈن سے متعلق تحقیقات کرے۔

 

ایجنسی رپورٹ کے مطابق امریکا کے ایوان نمائندگان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے حق میں ڈیموکریٹس کی تعداد میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے اور 235 میں سے 145 اراکین اس کے حق میں ہیں۔ جو بائیڈن نے امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
DONALD TRUMP, NANCY PELOSI, US CONGRESS, IMPEACHMENT, RUSSIA, MULLER, TWITTER, US PRESIDENT, VOTING