ہوم   > بین الاقوامی

ٹرمپ کی ثالثی کی پيشکش کے باوجود بھارت گریزاں ہے،عمران

2 months ago

امریکا طاقتور ترين ملک ہے، زمہ داریاں بھی زیادہ ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم  کی ملاقات کے موقع پر سماء کے نمائندے نے  بھی عمران خان سے سوال کیا جس پر انھوں نے تفصیلی جواب دیا۔

نیویارک میں پیر کو امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران سماء کے نمائندے عباس شبير نے عمران خان سے سوال کيا کہ وہ اس ملاقات سے کيا توقعات رکھتے ہيں تو وزيراعظم نے جواب ديا کہ ڈونلڈ ٹرمپ طاقتور ترين ملک کے صدر ہيں،ان کی ذمہ دارياں بھی زيادہ ہيں۔

مسئلہ کمشیرکاحل پاکستان اوربھارت کو مل کرنکالنا ہے، ٹرمپ

وزیراعظم نے مزید کہا کہ امریکی صدر کی مہربانی ہے کہ ثالثی کی پيشکش کی ہے تاہم بدقسمتی سے بھارت بات چيت سے انکاری ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ يہ حالات بحران کا آغاز ہيں اور بحران بہت بڑھنے والا ہے، امريکا چاہے تو سلامتی کونسل پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ وزير اعظم نے دو ٹوک کیا کہ پاکستان ان حالات ميں امريکا کی جانب ديکھ رہا ہے۔

امریکی کانگریس اراکین کا اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کوخط

اس سے قبل، نیویارک میں امریکی تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا کو پاکستان کی ضرورت پیش آئی اور پاکستان نے امریکا کا ساتھ بھی دیا لیکن پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔

افغان جنگ میں اتحاد پاکستان کی بڑی غلطی تھی، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ سوویت یونین کے خلاف بھی پاکستان نے امریکا کی مدد کی تھی اور مسلم ممالک سے القاعدہ کے جنگجووں کو اکھٹا کرکے آئی ایس آئی نے انہیں عکسری ٹریننگ دی اور روس کے خلاف مزاحمت کیلئے تیار کیا لیکن روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکا نے پاکستان کوتنہا چھوڑ دیا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں