ہوم   > بین الاقوامی

تیل پیداوار ستمبر کے آخر تک معمول پر آجائیگی،شہزادہ عبدالعزیز

4 weeks ago

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک تیل پیداوار معمول پر آجائے گی، سعودی عرب تیل کی پیداوار کیلئے ہمشیہ اولین ترجیح رہے گا۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ آرامکو تیل تنصیبات کی اصلاح ومرمت مکمل کرلی گئی ہیں۔ حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات اپنی اصلی حالت میں آگئ ہیں۔ اندرون ملک تیل کی ترسیل حملوں سے متاثر نہیں ہوئی تھی۔ دہشت گردانہ حملہ تمام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک پر حملہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ حملوں سے پہلے جتنا تیل نکالا اور سپلائی کیا جارہا تھا اتنی ہی پیداوار اور ترسیل منگل کی دوپہر سے شروع کردی گئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ خوشخبری سنانے کا حکم دیا ہے کہ تیل منڈی کے لیے ترسیل حملوں سے قبل والی حالت پر آگئی ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب ستمبر کے آخر میں یومیہ 11ملین بیرل تیل نکالے گا اور آئندہ نومبر کے اختتام سے قبل یومیہ پیداوار 12ملین بیرل یومیہ تک پہنچا دے گا۔

پریس کانفرنس میں موجود آرامکو کے چیئرمین یاسر الرمیان نے کہا کہ آرامکو تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد 7 گھنٹے کے اندر آگ پر قابو پالیا گیا تھا۔ اب ابقیق سے روزانہ 20لاکھ بیرل تیل نکالا جارہا ہے۔

چیئرمین نے زور دیے کر کہا کہ آرامکو مقررہ وقت پر اپنے حصص مارکیٹ میں پیش کرے گی، یہ ہماری حکومت کا عہد ہے پورا کیا جائے گا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ آئندہ 12ماہ کے دوران کسی بھی وقت آرامکو کے حصص فروخت کرنے کا اعلان ہوجائے گا۔

آئل تنصیبات پر حملہ،وزیراعظم کا سعودی ولی عہد کو فون

واضح رہے کہ سعودی عرب کے شہر بعقیق میں واقع آئل فیلڈ پر ہفتے کی صبح ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد تیل کی پیداوار میں کمی اور دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جب کہ خام تیل کے فی بیرل کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔

سعودی آئل تنصیبات پر حملے کی تصاویر جاری

سعودی عرب نے تيل تنصيبات پر حملے کی تحقيقات عالمی ماہرين سے کرانے کا اعلان کيا ہے۔ سعودی عرب نے الزام لگايا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے ميں ايرانی ہتھياروں کا استعمال ہوا ہے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں