ہوم   > بین الاقوامی

امریکا نےٹی ٹی پی سربراہ سمیت مختلف شخصیات کودہشتگرد قراردیدیا

2 weeks ago

امریکا نے تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کے امیر مفتی نور ولی محسود اور دیگر کئی شخصیات کو دہشت گرد قرار دے دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور محمد ولی سمیت مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندوں کا سامنا کرنے والی تنظیموں میں حماس، القاعدہ، داعش اور پاسداران انقلاب شامل ہیں، جب کہ ان تنظیموں سے منسلک 15 دیگر افراد کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ نئی پابندیاں امریکا میں ہونے والے نائن الیون حملوں کے 18 سال مکمل ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت لگائی گئی ہیں۔ حماس کے فنانس آفیسر زاہر جبرین اور قدس فورس کے سربراہ سعید آزادی پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق برازیل میں مقیم القاعدہ کا رہنما ابراہیم اور ملاوی باشندہ امین بھی اس نئی فہرست میں شامل ہے۔ امین داعش کی ڈیجیٹل میڈیا کا رکن ہے، جو تنظیم کیلئے مختلف مواد کا ترجمہ کرتا ہے، اسے ماہانہ 700 امریکی ڈالر ملتے ہیں۔ یہ لوگوں کو داعش میں بھرتی کرنے کیلئے بھی تیار کرتا ہے۔ ابراہیم افغانستان میں القاعدہ کے مواد کی اشاعت میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

فہرست میں کئی منی ایکسچینج ہاؤسز اور ترکی کی جیولر کمپنی بھی نئی پابندیوں کی زد میں آئی ہیں۔ فہرست میں شامل افراد کی امریکا میں اگر کوئی جائیداد موجود ہوئی تو وہ بھی ضبط ہوسکے گی جب کہ ان کے ساتھ کاروبار پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

نور ولی

ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی کا نام اس وقت منطر عام پر آیا، جب  جون 2018 میں فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد نور ولی کو تنظیم کا سربراہ بنایا گیا تھا۔

مروان عیسیٰ

مروان عیسیٰ حماس کے آپریشنل ونگ کے ڈپٹی کمانڈر ہیں، جو عز الدین القاسم بریگیڈ کو کمانڈ کرتے ہیں۔

محمد الہندی

محمد الہندی فلسطینی اسلامک جہاد تنظیم کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ہیں۔

دیگر افراد اور اداروں میں بہا ال ابوعطا، اسماعیل تاش، الکرائیکی، محمد حیدر، فواد شوکر، ابراہیم عقیل، حاجی تعیسر، ابو عبداللہ ابن عمر ، حاطب حجن، حورس الدین، فاروق ال سوری، ریڈ ان ایکسچینج، اسمارٹ اتھالت، الحرم فارن ایکسچینج، الخالدی ایکسچینج اور ال حیبو جیولری کمپنی شامل ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں