ہوم   > بین الاقوامی

ٹرمپ نے طالبان کیساتھ مذاکرات معطل کردیئے

1 month ago

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر ديا جب کہ کيمپ ڈيوڈ ميں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر کے ساتھ آج 8 ستمبر کو ہونے والی خفيہ ملاقاتيں بھی منسوخ کر ديں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے يہ اعلان کابل ميں امريکی فوجی سميت بارہ افراد کی ہلاکت کے بعد کيا۔ امريکی صدر نے اپنی ٹوئٹس ميں لکھا کہ اتنے اہم موقع پر کابل ميں بارہ بے گناہ افراد کو قتل کرديا گيا جس کا طالبان نے اعتراف بھی کيا اس لیے اس صورتحال ميں بامقصد معاہدے کے ليے طالبان نے مذاکرات کا اختيار کھو ديا ہے۔

 

انہوں نے سوال کيا کہ افغان طالبان مزيد کتنی دہائيوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہيں؟ ٹرمپ نے متعدد ٹوئٹس میں تفصیل سے بتایا کہ وہ اتوار کو میری لینڈ میں صدارتی تفریح گاہ پر افغان صدر اور طالبان رہنماؤں سے ملنے والے تھے۔ ٹرمپ نے لکھا “کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر اتوار کو کیمپ ڈیوڈ میں مجھ سے علیحدہ علیحدہ خفیہ ملاقاتیں کرنے والے تھے”۔

 

انہوں نے ٹویٹ میں مزید لکھا ’’وہ (طالبان) آج رات امریکا آنے والے تھے، لیکن بدقسمتی سے انہوں نے مذاکرات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش میں کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی‘‘۔

 

ٹرمپ کا مذاکرات معطل کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا، جب کچھ دن پہلے افغانستان میں امن کے لیے امریکا کے خصوصی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ فریقین کے درمیان امن معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے۔

 

امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے مسودے کے مطابق معاہدے پر فریقین کے دستخط کے بعد امریکی فوجی 135 دنوں کے اندر اندر افغانستان میں اپنے پانچ فوجی اڈے چھوڑ دیں گے۔

 

جواب میں طالبان سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ دہشت گردی کی عالمی کارروائیوں کے لیے اپنے ملک کو ہرگز استعمال نہیں ہونے دیں گے تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان میں متعدد بڑے حملے مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بنے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں