ہوم   > بین الاقوامی

ٹرمپ کی پرسنل اسسٹنٹ ملازمت سے فارغ

2 months ago

امریکی صدر نے اپنی پرسنل اسسٹنٹ میڈیلین ویسڑ کو ملازمت سے برطرف کردیا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر کا کہنا ہے کہ میڈیلین ویسٹر نے میرے اہل خانہ سے متعلق اچھے جملے استعمال نہیں کیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میڈیلین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنی بیٹی ایونکا سے اتنے قریب نہیں جتنے وہ میرے قریب ہیں، صدر اپنی بیٹی ٹیفینی کے ساتھ اس لیے تصویر بنوانے سے پرہیز کرتے ہیں کیوں کہ وہ موٹی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرسنل اسسٹنٹ نے ٹرمپ کے اہل خانہ اور ان کی ذاتی زندگی سے متعلق بھی باتیں سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ امریکی سیکیورٹی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی صدر کے اہل خانہ اور ان کی ذاتی زندگی سے متعلق باتیں کرنا ریڈ لائن کراس کرنے کے برابر ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کا میڈیلین ویسٹر کو ملازمت سے برطرف کرنے پر کہنا تھا کہ میڈیلین کو امریکی صدر کے اہل خانہ کی میٹنگ کی آف دی ریکارڈ تفصیلات لیک کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا۔

پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) میڈلین ویسٹر ہاؤٹ امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔

میڈیا نمائندوں نے وائٹ ہاؤس کے عملے سے ٹرمپ کے فیملی کے ساتھ عشایئے کی تفصیلات پر بات چیت کی جس کے بعد صدر کی پی اے کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سابق عہدیدار کا کہنا تھا امریکی صدر اپنی پرنسل اسسٹنٹ کے کافی قریب سمجھے جاتے تھے جب کہ ان کا دفتر بھی اوول آفس کے بالکل سامنے تھا، البتہ امریکی صدر کی ذاتی معلومات سے متعلق بات چیت ریڈ لائن تصور کی جاتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل میڈلین نے چیف آف اسٹاف ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی جیت پر میڈیلن انتہائی افسردہ تھی کہ وہ پوری رات روتی رہی، تاہم وائٹ ہاوس میں نوکری کیلئے اس نے اپنا نظریہ تبدیل کیا۔ اس سے قبل وہ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کیلئے کام کرتی تھی۔

مذکورہ 28 سالہ پرسنل اسسٹنٹ وائٹ ہاوس میں مہمانوں کو خوش امدید کہنے اور ان کو منزل تک لے جانے کے باعث گریٹر گرل اور ایلیویٹر گرل کے نام سے بھی مشہور تھی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں