ہوم   > بین الاقوامی

ناسا کا خاتون خلاء باز کو چاند پر بھیجنے کا وعدہ

3 weeks ago

ناسا نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی خاتون خلاء باز کو چاند پر بھیجے گا، جس کیلئے اس بار 2024ء کی تاریخ دی گئی ہے۔

خواتین کی قیادت کا جشن منانے کیلئے رواں ہفتے منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جِم برڈینسٹائن کا کہنا تھا کہ کسی خاتون کو مستقبل قریب میں چاند کی تسخیر کیلئے بھیجنے کی تحریک ان کو اپنی بیٹی سے ملی۔

اس وقت ناسا میں محض 12 خاتون خلاء باز کام کر رہی ہیں جو کل تعداد کا ایک تہائی حصے سے بھی کم ہیں، فنڈز کی کمی اور سائنسی رکاوٹوں کے باعث اس حوالے سے شبہات پیدا ہوگئے ہیں کہ مقررہ وقت تک کسی خاتون خلاء باز کی تربیت مکمل ہوپائے گی یا نہیں۔

جم برڈینسٹائن نے کہا کہ میری 11 سال کی بیٹی ہے، میری خواہش ہے کہ اس کو بھی ایسے مواقع میسر ہوں جیسے مجھے اس وقت حاصل تھے جب میں بڑا ہورہا تھا۔

جِم برڈینسٹائن نے بتایا کہ اس مشن کا نام یونانی دیوتا اپالو کی جڑواں بہن آرٹیمس کے نام پر رکھا گیا ہے، جس پر آئندہ 5 برسوں کے دوران 20 سے 30 ارب ڈالر لاگت آئے گی تاہم اس کیلئے تاحال رقم مختص نہیں کی گئی۔

سیاسی ترجیحات کے خطرے کو کم کرنے کیلئے مشن کی تاریخ کو 2028ء سے 4 سال پیچھے لایا گیا، برڈینسٹائن کہتے ہیں کہ ناسا کی تاریخ میں سیاسی ترجیحات ایک چیلنج رہا ہے، جس سے اس کے کئی منصوبوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس جون میں کہا تھا کہ ناسا کو چاہیے کہ وہ خواتین کو چاند پر اتارنے کی بجائے مریخ پر مشن بھیجنے جیسے بڑے منصوبوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں