افغان صحافی کاپاکستان مخالف سوال،ترجمان وائٹ ہاوس نے خاموش کرادیا

July 17, 2019

واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کی نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان مخالف سوال پر افغان صحافی کو منہ کی کھانی پڑ گئی۔ ترجمان نے جواب دیا کہ عمران خان کے دورہ امریکا پر وائٹ ہاوس تفصیلی بات کرسکتا ہے، تاہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خصوصی سفیر پہلے ہی بات کرچکے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان محکمہ خارجہ مورگن اورٹیگس کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان وائٹ ہاؤس کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔

کرتاپور راہداری

اس موقع پر ترجمان نے کہا کہ پاک بھارت کرتار پور راہداری منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہیں، کرتار پور راہداری منصوبہ یقیناً ایک اچھی خبر ہے، امریکا ایسے تمام اقدامات کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرتا ہے جن سے پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہو۔

افغان صحافی کا سوال

پریس بریفنگ کے دوران افغان صحافی نے ترجمان کی توجہ حاصل کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹس ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان امریکا کا دورہ کر رہے ہیں اور وہ وائٹ ہاوس میں امریکی صدر سے ملاقات بھی کریں گے، تو کیا اس دورے میں پاکستان کے اندر ہونے والی نسل کشی خصوصا کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر حصوں میں ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق کوئی دباو ڈالا جائے گا ؟۔

جس پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خصوصی سفیر بات کر چکے ہیں، عمران خان کا دورہ وائٹ ہاوس دیکھ رہا ہے، عمران خان کے دورہ امریکا پر وائٹ ہاوس سے بات کریں۔

میانمار

اس موقع پر ترجمان نے میانمار میں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کشی پر میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا وہ پہلا اور واحد ملک ہے جس نے برما کی ملٹری لیڈر شپ کے خلاف ایکشن لیا، میانمار کے آرمی چیف اور دیگر 4 جرنیل کا روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام میں کردار ہے۔ امریکا نے میانمار کے آرمی چیف اور 4 جنرلز کا ملک میں داخلہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔