ایران نے امریکا سے مذاکرات کیلئے شرط عائد کردی

June 20, 2019

ایران نے امریکا سے مذاکرات کیلئے شرط عائد کردی، صدر حسن روحانی کہتے ہیں کہ امریکا کی طرف سے مذاکراتی دعوت قبول کرنے کیلئے پہلے اُسے ہم پر عائد پابندیوں کو ختم اور ایرانی انقلابی نظام کو قبول کرنا پڑے گا۔

تہران میں کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کے اظہار پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم پر زبردستی کرنیوالے ایک شخص کے ساتھ مذاکراتی میز پر آنا خود کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے، اگر امریکا بات چیت چاہتا ہے تو اُسے ایک درست اور مثبت مذاکراتی ماحول پیدا کرنا ہوگا جس کیلئے پہلے ضروری ہے کہ ہم پر عائد پابندیاں ختم اور انقلابی نظام کو قبول کیا جائے۔

مزید جانیے : ایران نے امریکی ڈرون طیارہ مار گرایا

واضح رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان حالات کشیدہ ہیں، امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے تقریباً ڈھائی ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیج چکا ہے۔

ایرانی صدر کا عالمی توانائی کمیشن کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق کہنا تھا کہ کمیشن، ہمارے جوہری پروگرام کو پُر امن قرار دے چکا ہے، باوجود اس کے کہ تہران نے اپنے وعدوں میں سے بعض کو اگر پامال کیا ہے تو وہ صرف اس معاہدے میں شامل طرفین کے مؤقف کیخلاف ہمارا رد عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کسی ملک کیخلاف جنگ نہیں چھیڑیں گے، ایرانی صدر

حسن روحانی نے مزید کہا کہ یورپی یونین اور جوہری معاہدے میں شامل طرفین کو دی جانے والی 60 روزہ مہلت ختم ہونے کے بعد وہ نئے اقدامات کا اعلان کریں گے۔

دوسری جانب ایران نے اپنی حدود میں امریکی فضائیہ کا ڈرون طیارہ مار گرایا، پاسداران انقلاب ایران  کے جنرل حسین سلامی کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ امریکا کا ایک ڈرون طیارہ گرانے سے ہمارے دشمنوں کو واضح پیغام مل گیا ہوگا کہ ان کا پالہ کس سے پڑا ہے۔