امریکی دباؤ نظرانداز، روس کا میزائل دفاعی نظام اگلے ماہ ترکی پہنچ جائے گا

June 16, 2019

امریکا کی جانب سے سخت دباؤ کے باوجود ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام جولائی میں ترکی کے پاس پہنچنا شروع ہوجائے گا۔

ترک میڈٰیا کے مطابق صدر ایردوآن نے تاجکستان کے دورے سے واپسی پر اپنے ہمراہ طیارے میں سفر کرنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ ایس-400 میزائل دفاعی نظام کا معاملہ حل ہوچکا۔ تاجکستان میں روسی صدر ولادی میر پوتین سے بھی اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔

ایردوآن نے کہا کہ میں جولائی کے پہلے نصف میں ان میزائل نظام کی ترکی میں آمد شروع ہوجائے گی۔

گذشتہ ہفتے روسی صدر کے مشیر یوری اُشاکوف نے کہا تھا کہ روس جولائی میں اپنا بنایا ہوا میزائل دفاعی نظام ایس -400 ترکی کے حوالے کردے گا۔

رواں ماہ امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹرک شناہن نے خبردار کیا تھا کہ اگر ترکی روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری سے دستبردار نہیں ہوتا تو اس کو ایف 35 لڑاکا جیٹ پروگرام سے خارج کردیا جائے گا۔

صدر ایردوآن نے اس بارے میں کہا ہے کہ وہ جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب کبھی کسی نے متنازعہ بات چیت کی ہے تو ہم نے فوری طور پر صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے اور ٹیلی فون سفارت کاری کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

نیٹو کے رکن ممالک کا کہنا ہے کہ روس کا یہ میزائل نظام ان کے فوجی اتحاد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ امریکا ترکی کے روس سے اس میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے پر برہم ہے اور اس نے ترکی کو یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر وہ روس کے ساتھ طے شدہ معاہدے سے دستبردار نہیں ہوتا تو وہ اس کے ساتھ ایف 35 لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریداری اور اس کے پرزوں کی تیاری کے پروگرام سے دستبردار ہوجائے گا اور ترکی پر سخت پابندیاں عائد کردے گا۔

امریکا کی ان دھمکیوں کے باوجود ترکی روس سے میزائل دفاعی نظام خریدنے پر مُصر رہا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ وہ اپنی علاقائی خودمختاری کے دفاع کے لیے یہ میزائل نظام خرید رہا ہے اور اس اقدام سے اس کے اتحادیوں کو کوئی خطرات لاحق نہیں ہوں گے۔