Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > Latest

قابض بھارتی فوج کےآپریشن میں برہان وانی کا جانشین ذاکر موسٰی شہید

SAMAA | - Posted: May 24, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: May 24, 2019 | Last Updated: 1 year ago

قابض بھارتی فوج نے پلواما کے علاقے میں نام نہاد آپریشن کے دوران نوجوان کو فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔ بھارتی فوج نے صرف اسی پر بس نہ کیا بلکہ ایک گھر بھی دھماکے سے تباہ کر دیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلواما میں نوجوان کو سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ نوجوان کی شناخت حریت پسند رہنما کے اہم رکن ذاکر موسٰی کے نام سے کی گئی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ذاکر موسٰی آزادی کی نئی روح پھونکنے والے شہید برہان وانی کا قریبی دوست تھا۔ جاری خبروں کے مطابق بھارتی فوج نے باقاعدہ پلاننگ کے بعد ذاکر موسٰی اور ساتھی کو آپریشن کی آڑ میں شہید کیا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وادی بھر میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے۔ بارامولا، پلواما، سرینگر، کپواڑہ، سمیت مختلف علاقوں میں کشمیری ذاکر موسٰی شہید کی خبر سننے کے بعد سڑکوں پر نکل آئے۔

یونی ورسٹی آف کشمیر کے طلبا نے بھی ذاکورا کیمپس کے باہر مظاہرہ اور احتجاج کیا۔ بھارتی فوج اور حکومت کو سخت پیغام دینے کیلئے آزادی کے متوالوں نے مساجد کے اندر ترانے بھی بجائے۔

متعدد علاقوں میں مظاہرین اور احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر قابض بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنز، آنسو گیس اور فائرنگ بھی کی گئی۔

جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے وادی بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کو جام کر دیا گیا، جب کہ وادی بھر میں اسکولوں اور کالجز میں 24 مئی تک تعطیل کے اعلان کے بعد کرفیو بھی نافذ کردیا گیا۔

برہان وانی کون؟

آٹھ جولائی 2016 کی دوپہر اسلامی ماہ شوال کی تین تاریخ کو لوگ ہفتے کے اختتام کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب سری نگر سے 60 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع کوکرناگ میں غروب آفتاب کے وقت وقفے وقفے سے گولیوں کی آواز آنے لگی۔

شب آٹھ بجے کے قریب نیو دہلی میں ٹیلیویژن چینلز نے خبر بریک کی کہ ’’حزب المجاہدین کا چوٹی کا کمانڈر برہانی وانی جموں و کشمیرمیں قتل: پولیس‘‘۔ چند ہی سیکنڈز میں سوشل میڈیا کے ذریعے خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھ گئے۔

برہان وانی کی اسٹریچر پر رکھی میت کی تصویر انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہوئی، تصویر میں موجود برہان وانی اس صاف ستھرے اور پرامید چہرے والے وانی سے مشابہت نہیں رکھتا تھا، جس کی تصاویر وہ اور اس کے چاہنے والے فیس بک پر پوسٹ کیا کرتے تھے۔ اس کے چہرے پر نمایاں کالی داڑھی مونڈ دی گئی تھی، سوجن زدہ منہ کھلا ہوا اور سامنے کے دانت ٹوٹے ہوئے لگ رہے تھے۔

اکیس سالہ برہان مظفر وانی نے 15 سال کی عمرمیں حزب المجاہدین میں شمولیت اختیارکی تھی۔ شروعات ایسے ہوئیں جب جماعت نہم کا طالبعلم وانی اپنے بھائی اور دوست کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہا تھا کہ اسپیشل آپریشن گروپ کے ایک دستے نے انہیں روک کر سگریٹ لانے کیلئے کہا۔ برہانی کے بڑے بھائی خالد مظفروانی نے ان کے کہے پرعمل کیا لیکن جواب میں خصوصی آپریشنز گروپ کے دستے نے خالد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور موٹر سائیکل بھی تباہ کردی۔ تشدد سے خالد بیہوش ہوگیا، جب کہ برہان اور اس کا دوست وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے، کچھ ہی فاصلے پر جا کر وانی نے با آواز بلند اس دستے سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’میں اس مار کا بدلہ لوں گا‘‘۔

برہان نے حریت پسندوں میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کیا۔ اس واقعے کے 6 ماہ بعد ہی اپنا گھر چھوڑنے والے برہان وانی کو آئندہ آنے والے سالوں میں لوگوں نے حزب المجاہدین کے پوسٹر بوائے کے طور پر دیکھا۔ کشمیریوں سے خطاب کیلئے سوشل میڈیا کو ذریعہ بنانے والے وانی کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد لوگ خصوصا نوجوان اس کی بہادری سے متعلق سرعام گفت گو کرتے نظر آتے تھے۔ برہان نے اپنے بیانات اور تقاریر کے ذریعے کشمیریوں بلخصوص نوجوانوں میں آزادی کی نئی روح پھونکی، جس کے بعد ہر شخص اپنے آپ کو برہان وانی تصور کرنے لگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube