افغان اور نیٹو فورسز نے طالبان سے زیادہ عام شہری قتل کیے، اقوام متحدہ

April 25, 2019

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہہ ماہی میں طالبان سے زیادہ امریکی اور افغان فوج نے عام شہریوں کو قتل کیا ہے۔

افغانستان میں موجود اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یو این اے ایم اے) کے مطابق رواں برس دہشت گردی میں 532 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر سیکیورٹی فورسز کی بمباری یا فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ تک افغان اور بین الاقوامی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد طالبان حملوں میں مرنے والوں سے زیادہ ہے۔ ہلاک ہونے والے 532 عام شہریوں میں سے 305 سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے جب کہ طالبان حملوں میں 227 عام شہری اپنی جانوں سے گئے۔

یو این اے ایم اے کی دستاویز کے مطابق یکم جنوری سے 31 مارچ تک ایک ہزار 773 شہریوں کو جانی نقصان پہنچا جس میں 581 افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار 192 افراد زخمی ہوئے جبکہ اس تعداد میں 582 بچے بھی شامل ہیں، جنہیں جانی نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق شہریوں کے جانی نقصان کی سب سے بڑی وجہ زمینی جھڑپیں یا کارروائیاں ہیں جو مجموعی تعداد کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ حکومت کی حامی اور حکومت مخالف فورسز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امریکا طالبان مذاکرات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مسلح حملوں کا استعمال کررہی ہیں۔

مکمل رپورٹ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں