ہوم   > Latest

کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشت گرد حملہ، مسلم ممالک کا اظہار مذمت

9 months ago

کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشت گردوں کے حملے پر مسلم ممالک کے سربراہ اور اہم شخصیات نے شدید مذمت کا اظہار اور حملے کو فسطائیت قرار دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا، جس میں 49 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے، شہداء میں کئی ممال کے شہری شامل ہیں جبکہ 4 پاکستانی زخمی اور 5 لاپتہ ہیں۔

سعودی عرب نے کرائسٹ چرچ میں نماز جمعہ کے دوران فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردی کی تمام شکلوں اور حالتوں کی رنگ، نسل اور مذہب سے بالا تر ہو کر مذمت کرتا ہے، مملکت سمجھتی ہے کہ دہشت گرد کا کوئی وطن اور مذہب نہیں ہوتا۔

رابطہ عالم اسلامی (او آئی سی) نے بھی نمازیوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔

عالم اسلام کی تاریخی درسگاہ اور دارالافتاء الازہر الشریف کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے بھی کرائسٹ چرچ کی مسجدوں میں نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کو انسانیت سوز اقدام اور قابل مذمت قرار دیا۔

مزید جانیے : کرائسٹ چرچ مسجد حملہ بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا نتیجہ ہے، عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے 11ستمبر کے حملے کے بعد دنیا بھر میں پھیلنے والے مسلمان مخالف جذبات (اسلامو فوبیا) کا شاخسانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ہمارے مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹنو مرسودی کے مطابق حملے کے وقت 6 انڈونیشی النور مسجد میں موجود تھے، جن میں سے 3 محفوظ رہے جبکہ ہم دیگر 3 افراد کو تلاش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ویلنگٹن میں موجود انڈونیشیئن سفارتخانے نے مقامی حکام کے تعاون سے ایک ٹیم کرائسٹ چرچ روانہ کردی، انہوں نے بتایا کہ کرائسٹ چرچ شہر میں مجموعی طور پر 330 انڈونیشی شہری موجود ہیں جس میں 130 طالبعلم ہیں۔

ترک صدر طیب اردوان نے اس افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور اسے اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : نیوزی لینڈ میں2 مساجد پر حملہ، 6 پاکستانی لاپتہ

برطانوی سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مساجد میں ہونیوالے حملوں پر نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس کے علاوہ ملائیشیا کی سب سے بڑی حکومتی اتحادی جماعت نے اس حملے میں ایک ملائیشین شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی امن کیلئے سیاہ سانحہ قرار دیا۔

بھارت کے آل انڈیا مسلم کونسل کے بانی کمال فاروقی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمان مخالف رجحان قرار دیا۔

پاپائے روم پوپ فرانسس نے جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گردوں کے حملے میں نمازیوں کے قتل عام پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے عالم اسلام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات جانیں : کرائسٹ چرچ،2مساجد پر حملہ،49سے زائد نمازی شہید،متعدد زخمی

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈیرن کا کہنا ہے کہ پولیس نے نمازیوں کے قتل عام میں ملوث 3 مردوں اور ایک خاتون کو گرفتار کرلیا، انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے یہ لوگ زیرنگرانی افراد کی فہرست میں شامل نہیں تھے، ملک میں دہشت گردی کے بدترین واقعے کے بعد ہنگامی حالت کا درجہ بڑھا دیا گیا ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں