ہوم   > Latest

انڈونیشیا میں سونامی سے اموات 373 ہوگئیں، ہزار سے زائد افراد زخمی

12 months ago

انڈونیشیا میں ہفتہ کو جزیرہ سماترا اور جاوا کے ساحلی قصبوں میں سونامی سے اموات بڑھ کر 373 ہوگئی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد  1459 تک پہنچ گئی ہے۔


برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک اور سونامی کے خطرہ کے پیش نظر کراکاٹوا آتش فشاں کے قریب سمندر کے آس پاس بسنے والے رہائشیوں کو نئے سونامی کے خطرے کے پیش نظر ساحل سے دور رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ ہفتہ کو آنیوالے سونامی کی وجہ کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے سبب سمندر کے اندر مٹی کے تودے گرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سونامی میں سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور سینکڑوں گھر تباہ ہو گئے۔

صدر جوکو ودودو نے اموات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور لوگوں کو صبر کی تلقین کی ہے۔

انڈونیشیا: تباہ کن سونامی سے 43 افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی

دوسری جانب سڑکوں کی بندش کے باعث امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں تاہم ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری متاثرہ علاقوں تک پہنچا دی گئی ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں پینڈگلینگ، جنوبی لامپنگ اور سیرانگ علاقوں میں ہوئی ہیں۔ سونامی کی زد میں آنے والے علاقوں میں مغربی جاوا کا معروف سیاحتی ساحل تانجنگ لیسنگ بھی شامل ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں اونچی اونچی لہریں اس ساحلی تفریحی مقام سے ٹکراتی نظر آتی ہیں جہاں معروف بینڈ ’سیونٹین‘ اپنا پروگرام پیش کر رہا تھا۔ گلوکار ریفائن فجرسیہ نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کے بینڈ کے باس نواز اور روڈ منیجر مارے گئے ہیں اور بینڈ کے تین دوسرے افراد اور خود ان کی اہلیہ لاپتہ ہیں۔

انڈونیشیاء ميں سونامی کی خوفناک ویڈیو

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ وہ سونامی کے باعث منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے میں دبے لوگوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریڈ کراس کی اہلکار کیتھی میولر کے مطابق زمین ملبے، کچلی ہوئی کاروں اور موٹر سائیکل سے بھری پڑی ہے، ہمیں منہدم عمارتیں نظر آ رہی ہیں۔ پینڈگلینگ کی اہم سڑک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور امدادی کارکنوں کو لوگوں تک پہنچنے میں دشواری ہو رہی ہے۔

عینی شاہد ین کے مطابق کیریٹا ساحل کے کنارے کی عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں، درخت اور بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے ہیں۔

انڈونیشیا کی ارضیاتی ایجنسی نے کہا کہ آتش فشاں جمعہ کو دو منٹ اور 12 سیکنڈ کے لیے پھٹا تھا جس کے سبب پہاڑ پر راکھ کا بادل اٹھا جو 400 میٹر کی بلندی تک گیا۔ انڈونیشیا زمین کے اس حصے میں واقع ہے جہاں مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کا خطرہ بنا رہتا ہے اور بحر الکاہل کے اس علاقے کو رنگ آف فائر کہتے ہیں۔

ستمبر میں انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے پر زلزلے کے سبب دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں