سبزی فروش جس نے بیٹے کی یاد میں 600 گڑھوں کو بھردیا

Samaa Web Desk
September 14, 2018

بھارتی شہری دادا راؤ بلہورے نے پچھلے تین سال میں ملک کے معاشی مرکز ممبئی کی سڑکوں پر پڑے چھ سو گڑھے بھر دیے ہیں۔

اڑتالیس برس کا دادا راؤ ایک سبزی فروش ہے۔ سال 2015 کے جولائی میں اس کا بیٹا پرکاش بلہورے جو کہ ایک ہونہار طالب علم تھا ایک ایسے ہی گڑھے کی وجہ سے موت کا شکار ہوگیا تھا۔ پرکاش اپنے کزن کے ساتھ سفر کررہا تھا اور موٹر بائیک کی پچھلی نشست پر سوار تھا جب اس کی گاڑی ایک گڑھے سے جا ٹکرائی۔ ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے اس کو دماغی چوٹ آئی جو بالآخر اس کی موت کا سبب بنی۔

یہ حادثہ ملک میں جاری مون سون کے موسم میں پیش آیا جب بارشوں کے باعث سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے پڑجاتے ہیں۔

دادا راؤ کہتا ہے کہ پرکاش کی اچانک موت نے ہماری زندگی میں بہت بڑا خلا پیدا کردیا ہے۔ یہ کام میں اسکی یاد میں اور اس کے لیے کرتا ہوں۔

بلہورے کہتا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ کسی اور کا بیٹا بھی اس طرح کی المناک موت سے دوچار ہو۔

سڑکوں پر پڑنے والے گڑھے ممبئی کی ایک اور پہچان بن گئی ہے۔ اس پہچان کی بنیاد پر اس شہر کو گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں رجسٹرڈ کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق پچھلے سال ان گڑھوں کی وجہ سے تین ہزار پانچ سو ستانوے لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، یعنی ہر دن دس اموات۔

شہری حکومتی بے حسی کو ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی حکام سڑکوں کی مرمت اور ان کی مناسب دیکھ بھال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سماجی رضاکار کہتے ہیں کہ ٹھیکیدار اس طرح سڑک بناتے ہیں کہ صرف سال بھر چل سکے تاکہ آئندہ سال  پھر سے مرمت کی ضرورت پڑے۔

دادا راؤ کہتے ہیں کہ حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ 585 گڑھوں میں زیادہ تر اس نے تن تنہا بھرے ہیں جبکہ باقی ان رضاکاروں کی مدد سے جو اس کی کہانی سے متاثر ہوئے ہیں۔

دادا راؤ پر بھارت کے اخبارات میں بے شمار مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ ان کو کئی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

دادا راؤ کہتے ہیں کہ میرے کام کی قدرشناسی نے مجھے اپنے درد سے نمٹنے کی طاقت دی اور جہاں کہیں بھی میں جاتا ہوں مجھے ایسے لگتا ہے کہ میرا بیٹا میرے ساتھ کھڑا ہے ۔

اس نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک زندہ ہوں ان گڑھوں کو نہیں چھوڑوں گا۔

 
 
 

ضرور دیکھئے