آسٹریلیا میں گھر سے 5 افراد کی لاشیں برآمد

September 10, 2018
 

مغربی آسٹریلیا پولیس کے مطابق پرتھ کے نواحی علاقے میں ایک گھر سے خاتون اور بچوں سمیت 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ سے جاری اطلاعات کے مطابق آسٹریلوی اسسٹنٹ کمشنر پولیس نے واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ گھر سے خاتون اور 4 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ متاثرہ لوگ آپس میں رشتہ دار تھے یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک ٹیم نے واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس جولائی میں بھی آسمنگٹن کے علاقے سے 7 افراد کی لاشیں ملی تھیں، سب کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ آسمنگٹن میں پیش آنے والا واقعہ آسٹریلیا میں 1996 کے بعد سب سے بڑا سانحہ تھا۔ واقعہ کو تسمینین سانحہ اور پرتھ واقعہ کے بعد سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سال 1996 میں پورٹ آرتھر کے علاقے تسمینین میں فائرنگ کرکے 35 افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔ ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ پرتھ کے شمال میں پیش آیا، جہاں گھر کے فرد کی جانب سے ماں، بیٹا اور بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق وہ ہر روز اس فیملی کو گھر کے باہر آتے جاتے اور بچوں کو کھیلتا دیکھتے تھے اور بیک یارڈ میں بچے اکثر کھیلتے نظر آتے تھے، تاہم کچھ روز سے بچوں کی آوازیں بھی نہیں آرہی تھیں، ہم سمجھے شاید وہ کہیں گئے ہوئے ہیں، ہم نے ایک دو بار گھر کے قریب جا کر بھی دیکھا مگر کچھ نطر نہ آیا۔

 

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت تکلیف کا باعث ہے کہ ایک ایسی عام سی فیملی جسے آپ روز دیکھتے تھے، انہیں ایسے مار دیا گیا ہو۔ اس سے نہ صرف پڑوسیوں بلکہ علاقے میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔