بصرہ میں پُرتشدد مظاہرے، ایرانی قونصل خانہ نذر آتش، جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک

September 8, 2018

عراق کے شہر بصرہ میں حکومت کیخلاف احتجاج کے دوران ایران کے قونصل خانے کو آگ لگادی گئی، مظاہروں کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا، پولیس سے جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے، درجنوں کو گرفتار کرلیا گیا، بصرہ ایئرپورٹ پر بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔

عراق کے شہر بصرہ میں ہفتہ بھر سے جاری احتجاج گزشتہ رات سنگین صورتحال اختیار کرگیا، حکومت کیخلاف احتجاج کے دوران ایرانی قونصل خانہ جلادیا گیا، جس کے بعد بغداد حکومت نے شہر میں کرفیو نافذ کردیا۔

عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ جس وقت قونصل خانے پر دھاوا بولا گیا، عمارت خالی تھی۔ مظاہرین بصرہ کے شہری تھے، جن کا کہنا تھا کہ حکومت کی کرپشن، سہولیات کی عدم فراہمی اور بیروزگاری نے احتجاج پر مجبور کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اب تک پولیس سے جھڑپوں میں 12 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں، مظاہرین کی جانب سے شہر کی تقریباً تمام عمارتوں کو آگ لگادی گئی ہے، جن میں حکومتی دعوۃ پارٹی کا صدر دفتر بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی جانب جانے کی بھی کوشش کی تاہم عراقی پولیس نے احتجاج کرنیوالوں کو منتشر کردیا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بصرہ ایئرپورٹ پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ عراقی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بصرہ ایئرپورٹ پر نامعلوم مقام سے 3 راکٹ فائر کئے گئے تاہم ہوائی اڈے کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا، امریکی قونصلیٹ بصرہ ایئرپورٹ سے متصل ہے۔

ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ راکٹ حملے سے پروازوں کا شیڈول متاثر نہیں ہوا، طیاروں کی آمد اور روانگی بلاتعطل جاری ہے۔