Saturday, October 31, 2020  | 13 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

برطانوی بلدیاتی انتخابات،لیبر اور کنزرویٹو میں سخت مقابلہ

SAMAA | - Posted: May 4, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: May 4, 2018 | Last Updated: 2 years ago

برطانیہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، انتخابات میں کئی پاکستانی امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔ رواں سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کے درمیان سیٹوں کا سخت مقابلہ ہے۔

رواں سال ہونے والے برطانوی بلدیاتی انتخابات میں پہلے بار اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی حصہ لے رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں ایک سو پچاس کونسلوں کی 4371 سیٹوں پر انتخابات ہوئے۔ مجموعی طور پر لیبر نے 261 امیدواروں، ٹوری نے 138, لبرل ڈیموکریٹک نے 67,گرین نے 17, پیتھ اور ایس پائیر نے 15 جب کہ 11 امیدوار آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق برطانیہ کی ایک سو پچاس کونسلوں سے انتخابی نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انتخابات میں 500 سے زائد پاکستانی نژاد، امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے ہیں۔

 

بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوا، جو بلا تعطل رات دس بجے تک جاری رہا، جہاں 4 ہزار 400 سے سے زائد نشستوں پر پولنگ ہوئی۔

 

مقامی کونسلز کے ان انتخابات میں 96سالہ فلورنس کرک بائی ملک کی سب سے اڈھیر عمر امیدوار ہیں، وہ نیوکاسل سے کونسلر کی امیدوار ہیں، جو عمر رسیدہ افراد کیلئے زیادہ سہولتوں کی خواہشمند ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں لیبر اور کنزرویٹوپارٹی میں سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں سب سے بڑا معرکا لندن میں ہوا، جہاں 32بار اور کونسلز کی نشستوں پر امیدوار آمنے سامنے آئے۔

 

 

برمنگھم، لیڈز، مانچسٹر اور نیوکاسل اپان تھیمز میٹروپولیٹن کونسلز کی تمام تر نشستوں پر معرکہ ہوگا، ہیکنی، نیوہیم، ٹاور ہیملٹس، وٹفورڈ اور شفیلڈ سٹی کیلئے میئرز کا انتخاب بلاواسطہ ہوا۔ انتخابات میں لیبر پارٹی اپنی 2278 نشستوں کا دفاع کرے گی، جب کہ حکمران ٹوری پارٹی 1365 اور لب ڈیم 462 نشستوں کے دفاع کیساتھ ساتھ اضافے کی کوشش کریں گی۔

 

برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ مقامی انتخابات میں لیبر پارٹی کا نعرہ حکومت کے کونسل بجٹ میں کٹوتی کی مخالفت ہوگا، لیبر پارٹی این ایچ ایس، سوشل کیئر اور ہائوسنگ کی بہتری کے نعرے کیساتھ میدان میں اتری ہے، لیبر پارٹی 2278نشستوں کے دفاع کیساتھ ساتھ زیادہ کونسلز کے کنٹرول کیلئے پرامید ہے۔ لیبر پارٹی ان انتخابات میں لندن کی وانڈزورتھ، ویسٹ منسٹر اور ہیلنگڈن بارو کونسلز پر اضافی اقتدار کیلئے پرامید ہے۔

 

برطانیہ کی تیسری بڑی سیاسی قوت لب ڈیم کے چیئرمین ونس کیبل نے ان انتخابات کو پارٹی کیلئے انتہائی اہم قرار دیا اور کہا گزشتہ انتخابات میں ٹوری پارٹی کیساتھ شراکت اقتدار کی وجہ سے جو نقصان ہوا اب اس کا ازالہ کیا جائے گا۔لب ڈیم لندن بارو آف سٹن کا کنٹرول برقرار رکھنے کے علاوہ ٹوری پارٹی سے کنگسٹن اپان تھیمز اور رچمنڈ کا اقتدار واپس لینے کی کوشش کرے گی۔

 

گرین پارٹی کے پاس کل 31 نشستیں ہیں، جب کہ وہ آکسفورڈ، سولی ہل اور شفیلڈ سے نشستوں کی اضافے کیلئے پرامید ہے، گرین پارٹی تعلیمی اداروں کے گرد خاص طور پر پرفضا ماحول کے انتخابی نعرے کیساتھ میدان میں ہے۔ انگلینڈ کے نو ریجنز ہیں جن میں گریٹر لندن، نارتھ ویسٹ، یارکشائیر اینڈ ہمبر اور ویسٹ مڈلینڈز کے ریجنز میں پاکستان نژاد آبادی کا تناسب دیگر علاقوں سے نسبتا زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں سے پاکستان نژاد امیدوار بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ گریٹر لندن پاکستان نژاد آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ریجن تصور کیا جاتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube