Tuesday, March 2, 2021  | 17 Rajab, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

آئیں مرتی ہوئی مونگے کی چٹانوں کو بچائیں

SAMAA | - Posted: Apr 29, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Apr 29, 2018 | Last Updated: 3 years ago

آگر آپ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق شعور رکھتے ہیں اور اس کی حفاظت کیلئے کام میں سنجیدہ ہیں تو یقیناً گریٹ بیرئر ریف کی حفاظت کیلئے بھی آواز اٹھائیں، جیسے آسٹریلوی وزیراعظم کی جانب سے ان قیمتی مونگے کی چٹانوں کو بچانے کیلئے اپیل کی گئی ہے۔


آسٹریلوی وزیراعظم نے گریٹ بیرئر ریف یعنی مونگے کی چٹانوں کو بچانے اور اس کے تحفظتی اقدامات کیلئے 400 سے 500 بلین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہمیں اس عالمی ورثے کو حقیقی حالت میں قائم رکھنے کیلئے اقدامات کرنے ہونگےا، نہوں نے کہا کہ گریٹ بیرئر ریف کی حفاظت اور اس کی حقیقی حالت میں بحالی اس ملک اور ماحولیات کیلئے ایک چیلنج ہوگا، تاہم کنزرویٹوز کی جانب سے اس مطالبے کی مخالفت کی گئی ہے۔

عالمی سطح پر 1981 میں عالمی ورثے کی حیثیت رکھنے والی گریٹ بیرئر ریف عرصے دراز سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، تاہم اس کی دیکھ بھال اور تحفظ کیلئے آسٹریلوی حکومت کو فنڈز درپیش ہیں۔ موسم اثرات اور گرم آب و ہوا کے باعث گریٹ بیرئر کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، جب کہ آلودگی کے باعث جنم لینے والی کانٹوں والی اسٹار مچھلی بھی اس کیلئے ایک مسئلہ ہے۔

 

آسٹریلوی وزیراعظم کی جانب سے گریٹ بیرئر ریف کے مقام پر پانی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے توجہ دلاؤ نوٹس بھی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام لوگ جن کا روزگار اس ریف سے منسلک ہے ان کیلئے اور اس سے حاصل تمام فوائد کیلئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔

 

رنگ برنگی قدرتی مونگے کی چٹانوں پر مشتمل دنیا کا یہ حصہ ہے تو زیر آب تاہم اپنے دلکش حسن اور رنگوں کے باعث منفرد مقام رکھتا ہے ہے۔ موٹے موٹے مونگے سے بنی چٹانیں جہاں سمندری مخلوق کیلئے اہمیت کی حامل ہیں، وہیں یہ اس سے وابستہ افراد کیلئے بھی اہم ہیں، جن کا روزگار اس سے وابستہ ہے، تاہم ماحولیاتی آلودگی کے باعث یہ چٹانیں اپنے اصل رنگ اور خوبصورتی سے محروم ہو رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے اور گلوبل وارمنگ کے باعث یہ چٹانیں اپنا اصل رنگ کھو رہی ہیں۔

براعظم آسٹریلیا:

براعظم آسٹریلیا کا ایک بڑا حصہ بنجر اور صحرا پر مشتمل ہے، آسٹریلیا کو چپٹا ترین براعظم بھی کہا جاتا ہے، یہ ملک یا یوں کہیں براعظم کئی حوالوں سے مشہور ہے۔ اس کی مٹی سب سے پرانی اور سب سے کم ذرخیز ہے۔ اس کے علاوہ یہ خشک ترین براعظم ہے جہاں انسان رہتے ہیں۔ صرف جنوب مشرق اور جنوب مغرب کی طرف کے حصے معتدل درجہ حرارت رکھتے ہیں۔ آبادی کی اکثریت جنوب مشرقی ساحل پر رہتی ہے۔ ملک کے شمالی علاقے استوائی موسم رکھتے ہیں اور یہاں رین فارسٹ، عام جنگلات، گھاس کے میدان، مینگروو دلدلیں اور صحرا ہیں۔ موسم پر سمندری روؤں کا گہرا اثر ہے۔ اسی طرح شمالی آسٹریلیا میں موسمی استوائی ہوا کا کم دباؤ سائیکلون پیدا کرتا ہے۔

آسٹریلیا ایک اور حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے اور وہ ہے گریٹ بیرئر ریف (مونگے کی چٹانیں) ۔ دیکھا جائے تو آسٹریلیا کا کل رقبہ 7617930 مربع کلومیٹر ہے، یہ سارے کا سارا انڈو آسٹریلین پلیٹ پر واقع ہے۔ اس کے گرد انڈین، جنوبی اور اوقیانوس کے سمندر ہیں۔ آسٹریلیا اور ایشیا کے درمیان تیمور اور ارافورا کے سمندر واقع ہیں۔ اس وقت آسٹریلیا کے پاس کل 34218 کلومیٹر کا ساحل موجود ہے، جب کہ اس کے پانیوں میں موجود گریٹ بیرئر ریف کو دنیا کی سب سے بڑی مونگے کی چٹان ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

 

گریٹ بیرئر ریف:
آسٹریلوی سمندر میں موجود مونگے کی چٹانیں جو ایک لاکھ 33 ہزار اسکوائر میل پر پھیلی ہوئی ہے، طویل عرصے سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، مگر ماحولیاتی چیلنجز کے باعث اس مقام کو نقصان پہنچ رہا ہے، جب کہ سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور آلودگی کے باعث آئندہ 100 برسوں میں اس قدرتی عجوبے کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے، جب کہ کچھ ماہرین کا تو یہ تک کہنا ہے کہ سال 2030 تک ہی یہ مقام مکمل طور پر غائب ہوجائے گا۔

 

یہ دنیا کا واحد سب سے بڑا سمندری ڈھانچہ ہے جو زندہ اجسام نے بنایا ہے اور ان رنگ برنگی چٹانوں کو اربوں ننھے اجسام نے ترتیب دیا ہے جو کورل یعنی مونگے یا مرجان کہلاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں مونگوں کی چار سو سے زائد اقسام اور 1500 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں، جب کہ سمندری پودوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے، جو زیر آب کا نظارہ ایسے رنگین بنا دیتی ہے، جیسے ہماری آنکھوں کے سامنے کسی نے رنگوں کا کینوس کھیچ دیا ہو۔

 

ماہرین:

یہ ریف ایک لاکھ 33 ہزار اسکوائر میل پر پھیلی ہوئی ہے، طویل عرصے سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، مگر ماحولیاتی چیلنجز کے باعث اس مقام کو نقصان پہنچ رہا ہے، جب کہ سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور آلودگی کے باعث آئندہ 100 برسوں میں اس قدرتی عجوبے کے تباہ ہونے کا خدشہ ہے، جب کہ کچھ ماہرین تو اس سے بھی بڑھ کر خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ 2030 تک ہی یہ مقام مکمل طور پر غائب ہوجائے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube