عالمی رہنماؤں پر جوتے پھینکنےکےاہم واقعات

Samaa Web Desk
March 11, 2018

کراچی: جوتے انسانی تہذیب کی علامت سمجھے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے ان کا غلط استعمال عام ہونے لگا ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی رہنماؤں پر جوتے پھینکنے کے واقعات پیش آچکے ہیں ۔

جوتے اور انسان کا ساتھ بہت پرانا ہے۔جوتے بنائے توپیدل چلنے میں آسانی کے لیے تھےمگرمخالفین کی خبر لینے کے لیے بھی استعمال ہونے لگے۔10 سال قبل امریکی صدر بش پر صحافی نے جوتا پھینک کرعراقی عوام کے جذبات کا اظہار کیا۔2014 میں ہلیری کلنٹن پر لاس ویگاس میں تقریرکے دوران جوتے سے وار کیا گیا اورہلیری بال بال بچیں۔

پڑوسی ملک بھارت  میں تو ایسے واقعات عام ہیں۔بھارتی وزیراعظم مودی پر ایک خاتون نے جوتا پھینک مارا،مودی کی قسمت اچھی تھی کہ وہ جوتا کھانے سے بچ گئے۔دلی کے وزیراعلیٰ ارویند کیجریوال پر بھی تقریر کے دوران

جوتا اچھالا گیا۔پاکستان میں آصف زرداری اور شیخ رشید بھی جوتا کلب میںشامل رہ چکے ہیں۔گزشتہ ہفتے احسن اقبال پر بھی جوتا پھینکا گیا تھا۔ سماء