بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ، ترکی اور سعودی عرب کی مخالفت

December 6, 2017

ریاض / انقرہ : بیت القمدس سے متعلق امریکی اقدامات کی ترکی اور سعودی عرب نے مخالفت کردی۔ شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ کہ امریکی سفارتخانے کی القدس منتقلی کے اعلان پرعملدرآمد سے خطے میں امن وامان کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اردوان نے او آئی سی کا اجلاس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دے دی۔

دنیا کے مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خطے اور عالمی سطح پر سنگین مضمرات ہوں گے۔

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے تل ابیب میں قائم امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کو عالم اسلام کیلئے اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس اقدام سے باز رہنے کا مطالبہ کردیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین نے واضح کیا کہ امریکی سفارتخانے کی القدس منتقلی کے اعلان پر عمل درآمد سے خطے میں امن و امان کے قیام کیلئے ہونیوالی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا اور پورا خطہ ایک نئی کشیدگی کی لپیٹ میں آ جائے گا، فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی حمایت سعودی عرب کی مستقل پالیسی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

ترک صدر رجب طیب ایردون نے بیت المقدس سے متعلق امریکی پالیسی پر 13 دسمبر کو استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کا مطالبہ  کردیا، ترجمان کا کہنا ہے رابطہ کاری کے ساتھ ایک یکساں صورت میں حالیہ پیشرفت کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری مؤقف کو اسلامی ممالک کے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے۔

ترک حکومت کے ترجمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے سے پورا خطہ اور دنیا آگ کی ایسی لپیٹ میں آجائیں گے کہ ان سے نکلنا بہت مشکل ہوگا جبکہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ویب ڈیسک

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.