Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

امریکانےپاکستان میں دہشتگردی میں کمی کا اعتراف کرلیا

SAMAA | - Posted: Jun 20, 2015 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 20, 2015 | Last Updated: 5 years ago
امریکانےپاکستان میں دہشتگردی میں کمی کا اعتراف کرلیا

ویب ایڈیٹر:

واشنگٹن :امریکی محکمہ خارجہ نے انسداد دہشت گردی کے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کردی، رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی کیلئے پاکستان کو انتہائی اہم ساتھی قرار دیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق دنیا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ جب کہ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

امریکا محکمہ خارجہ نے انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کردی، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کم ہوئی ہے، جب کہ دنیا بھر میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا، دہشت گردی کے اضافے کی وجہ کالعدم دولت اسلامیہ ، کالعدم طالبان اور بوکوحرام ہے، جب کہ رپورٹ میں ایران پر شدت پسند تنظٰموں کی معاونت اور مدد کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ جارجہ کے مطابق داعش دنیا کا سب سے بڑا جہادی گروپ بن چکا ہے، القاعدہ قیادت کو نقصان پہنچانے کے باوجود یمن، شام، لیبیا، عراق اور نائیجیریا میں دہشت گرد گروپ مضبوط ہورہا ہے۔ دہشت گرد گروپ مضبوط ہونے کی وجہ ان ممالک کی کمزور حکومتیں ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق شام میں نوے ممالک کے 16 ہزار جنگجو لڑائی میں مصروف ہیں،2014 میں دنیا بھر میں ہونے والے حملوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد میں81 فیصد اضافہ ہوا، 2014 میں 13ہزار چار سو تریسٹھ حملوں میں 32700 افراد ہلاک ہوئے، 9400 افراد کو جنگجووں نے اغواء کیا یا یرغمال بنایا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان متعدد شدت پسند گروپوں سے مقابلہ کررہا ہے، جن میں سے کئی پاکستانی حکومت یا مذہبی فرقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں 2014 میں پاکستان کا تعاون ملا جلا رہا، جب کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی تربیت دینے والے ٹرینرز کو ویزے دینے سے انکار کرتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کی قیادت کو کافی نقصان پہنچا ہے، تاہم تنظیم کی عالمی قیادت ابھی بھی خطے کے دوردروز علاقوں سے کام جاری رکھے ہوئے ہے، القاعدہ کی قیادت کو خطے میں افغان، پاکستانی اور بین الاقوامی فورسز سے دباؤ کا سامنا ہے، پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن سے دہشت گرد گروپ کی آزادی سے کام کرنے کی طاقت مزید متاثر ہوئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کراچی میں سیکیورٹی صورت حال پاکستانی قیادت کی ترجیحات میں رہی اور اس سلسلے میں شہر میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا، کراچی میں مختلف شدت پسند اور دہشت گرد گروپوں کے درمیان سیاسی اور لسانی محاذ آرائی جاری ہے، جس میں دہشت گرد تنظیمیں،شدت پسند مذہبی گروپ اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ملوث رہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2014 میں پاک فوج نے ملک میں حملے کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی مگر کالعدم لشکر طیبہ جیسے گروپوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جو اب بھی پاکستان میں تربیت دینے، پروپگنڈا کرنے، لوگوں کو بھرتی کرنے اور فنڈز جمع کرنے میں ملوث ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کالعدم دولت اسلامیہ نے گزشتہ سال 1083، کالعدم طالبان نے 894 اور بوکو حرام نے 662 حملے کیے۔ سماء

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube