Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

کراچی میں کرونا کیسزکی تشویشناک شرح،حل کیا ہے؟

SAMAA | - Posted: Jan 14, 2022 | Last Updated: 2 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 14, 2022 | Last Updated: 2 days ago

کراچی میں کرونا وائرس کے متاثرہ افراد کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی تاہم ماہرین نے اس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کی بجائے دیگر اقدامات تجویز کیے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کی جانچ کے لیے 12 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں 2 ہزار 321 افراد میں اس وائرس کی موجودگی پائی گئی۔ ان نئے کیسز میں سے 2 ہزار 81 کراچی میں سامنے آئے۔

کراچی میں کرونا کیسز کی شرح اب 29 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ ایک تشویش ناک امر ہے اور اب اسپتالوں میں بھی مریضوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کیسز کی بڑھتی شرح پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن حل نہیں ہے بلکہ ہمیں بڑے اجتماعات کو کنٹرول کرنا ہوگا اور شہریوں کو ایس او پیز پر عملدرآمد کا پابند بنانا ہوگا تاکہ کرونا کیسز میں کمی لا سکیں۔

آغا خان اسپتال کے انفیکشس ڈیزیز کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ ہمیں کرونا ٹیسٹ میں اضافہ کرنا ہوگا جبکہ حکومت کو لاک ڈاؤن لگانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ زیادہ عرصہ کارگر اور مفید نہیں رہتا۔

انہوں نے کہا کہ ویکسی نییشن کی شرح بڑھنے سے شاید فوری طور پر کیسز پر فرق نہ پڑے کیوں کہ اس کے اثرات 2 ہفتہ کے بعد ظاہر ہوں گے، ویکسی نیڈ افراد کو بھی کرونا وائرس متاثرکر رہا ہے لیکن اس کی شدت کم ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن مسئلہ کا حل نہیں ہے لیکن حکومت کو اجتماعات اور ہجوم کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے اور ایس او پیز پر عمل کے ذریعے ہم کرونا وائرس پر قابو پا سکتے ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں 12 ہزار 229 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ یومیہ 19 ہزار 540ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عباسی شہید اسپتال کراچی، جناح اسپتال کراچی، ایس آئی یو ٹی، این آئی بی ڈی، کینسر فائونڈیشن، لاڑکانہ، سکھر میں کوئی بھی ٹیسٹ نہیں ہوا۔

عباسی شہید اسپتال کے حکام کے مطابق ان کے ہاں کافی عرصہ سے کٹس موجود نہ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے جس کے بارے میں کئی بار محکمہ صحت سندھ کو آگاہ کیا جاچکا ہے۔

جناح اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں یومیہ ٹیسٹ ہورہے ہیں محکمہ صحت رپورٹ میں اندراج نہیں کر رہا ہوگا یا جناح اسپتال سے ڈیٹا حاصل نہیں کیا جا رہا ہوگا۔

انڈس اسپتال کے سینے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر سہیل اختر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ زیادہ تر صرف بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں اور اسپتالوں میں داخلہ کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جبکہ دیگر شہریوں کی اکثریت ٹیسٹ نہیں کروا رہی۔

انہوں نے کہا کہ پہلی لہر کے دوران لگنے والے لاک ڈاؤن پر کچھ عمل ہوتا نظر آیا تاہم اس کے بعد اس کا مشاہدہ نہیں ہوسکا اب چوں کہ کرونا وائرس اومی کرون کی لوکل ٹرانسمیشن شروع ہوچکی ہے ایسے میں لاک ڈاؤن لگانے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا اور انہیں نہیں لگتا کہ حکومت اییسا کوئی قدم اٹھائے گی۔

ان کا کہنا تھاکہ اس وقت ہم صرف کرونا کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کر رہے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ نہیں ہو رہا ہے کہ تشخیص ہونے والے کرونا کی قسم اومی کرون ہے یا ڈیلٹا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت شادیاں ہو رہی ہیں تو شہریوں کو از خود ایس او پیز کا خیال رکھنا چاہیے، ماسک پہنیں ، ہاتھ دھوئیں، ہجوم والی جگہوں اور سماجی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ چوں کہ اس وقت شادیوں کا سیزن ہے اس لیے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ عمر رسیدہ یا ایسے افراد جن کی قوت مدافعت کم ہے وہ شادیوں میں جانے سے گریز کریں۔ ان کی شہریوں کو یہ بھی ہدایت تھی کہ وی شادیوں میں ماسک پہنیں اور کوشش کریں شادی میں کھانا کھاتے وقت علیحدہ بیٹھیں۔

ڈاکر سہیل اختر نے کہا کہ گو فی الوقت اسپتالوں پر اس طرح کا دباؤ نہیں ہے لیکن بہرحال وہاں کرونا سے متاثرہ مریض بڑی تعداد میں آنا شروع ہوچکے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube