Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

کرونا کیسز میں اضافہ، اسپتالوں میں مریض بڑھنا شروع

SAMAA | - Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago
SAMAA |
Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago


طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے نتیجے میں اسپتالوں میں مریض بڑھنا شروع ہوگئے ہیں اور اگر اسپتالوں پر دباؤ بڑھے گا تو یقیناً اموات بھی بڑھیں گی۔

ملک بھرمیں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی شرح بھی 6 فیصد سے بڑھ گئی ہے، جمعرات کو جاری ہونیوالے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں کرونا کیسز کی شرح 20.45 فیصد اور لاہور میں 10.70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک کے دوسرے شہروں میں بھی کرونا وائرس کی شرح بڑھنا شروع ہوگئی ہے، گلگت، اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی کرونا کی شرح بالترتیب 5، 6 اور 7 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔

انڈس اسپتال کراچی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اومی کرون ویرینٹ تیزی سے پھیلتا ہے، اچھی بات یہ ہے کہ یہ مہلک نہیں ہے لیکن پھر بھی جوں جوں کیسز بڑھیں گے تو یہ صورتحال کم قوت مدافعت والے افراد کیلئے خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری تو اللہ سے دعا ہے کہ یہ آخری لہر ہو اور یہ ایک نارمل فلو کی طرح ہوجائے، اس کے نتیجے میں ہرڈ امیونٹی شاید نہ ہو کیونکہ جب تک پوری دنیا میں ہرڈ امیونٹی ہوگی تو تب یہاں بھی ہوجائے گی۔

ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ کرونا وائرس کا خاتمہ عوام کے ہاتھ میں ہے، عوام ایس او پیز پر عمل کریں گے تو وائرس کنٹرول میں آئے گا، ایس او پیز پر عمل  نہ کیا گیا تو حکومت سخت فیصلے کرسکتی ہے، سخت اقدامات اٹھانے سے حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب سب کچھ بند ہوگا تو ٹیکسز نہیں آئیں گے اور معیشت پر اس کے پڑیں گے، اس لئے ہم سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔

کراچی کے علاقے صدر میں کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کئی دکانیں سیل۔ فوٹو : آن لائن

ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ لاک ڈاؤن لگے گا لیکن اگر صورتحال خراب ہوئی تو حکومت کو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے، اگر عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو ویرینٹس بھی مزید آتے رہیں گے۔

آغا خان اسپتال کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اسپتالوں میں اب مریض آنا شروع ہوگئے ہیں اور لگتا یہی ہے کہ جوں جوں کیسز بڑھتے جائیں گے اسپتالوں پر دباؤ بڑھنا شروع ہوگا،  دو سے تین ہفتے بعد اصل صورتحال سامنے آئے گی کیونکہ کرونا کیسز بڑھنے کے دنوں بعد اموات رپورٹ ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالباری کی طرح ڈاکٹر فیصل نے بھی لاک ڈاؤن کے امکان کو مسترد کردیا تاہم عوام سے ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں بڑے اور ہر طرح کے اجتماعات اور فیسٹیولز کا انعقاد نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جب کیسز بڑھ رہے ہوتے ہیں تو اجتماعات اور تقریبات کرونا کے مزید پھیلاؤ کا سبب بنتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube