Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

سندھ:ایم ڈی کیٹ میں50فیصد نمبروالوں کےداخلےکانوٹیفکیشن 

SAMAA | - Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago
MDCAT-exam-1

فوٹو: آن لائن

حکومت سندھ نے ایم ڈی کیٹ میں 50 فیصد نمبر لینے والے طلبہ و طالبات کو میڈیکل کالجز میں داخلے دینے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کردیا تاہم پاکستان میڈیکل کونسل کا کہنا ہے کہ 65 فیصد سے کم نمبر لانے والے رجسٹر کیے جائیں گے اور نہ ہی ملک میں پریکٹس کے اہل ہوں گے۔ 

نوٹیفکیشن کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کو سرکاری اور پرائیوٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کا اختیار دیا گیا ہے۔ 

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کو کہا گیا ہے کہ وہ 2 دوسمبر کو ہونے والے سندھ کابینہ اجلاس کی فیصلے کے مطابق سندھ کے پبلک اور پرائیویٹ میدیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلے شروع کریں۔ 

محکمہ صحت سندھ کے نوٹیفکیشن کے مطابق 50 فیصد سے کم طلبہ و طالبات داخلے کے اہل نہیں ہوں گے۔ چند روز قبل سندھ کابینہ کی جانب سے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلوں کے لیے پاسنگ پرسینٹیج 65 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد کرنے کی منظوری دی تھی۔ 

گزشتہ روز وزیر صحت سندھ  ڈاکٹر عذرا پیچوہو بھی پریس کانفرنس میں سندھ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( ایس ایم ڈی سی) کے قیام کا عندیہ دے چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 65 فیصد سے کم نمبر پر داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات کو پی ایم سی تسلیم نہیں کرے گا تو ہم ایس ایم ڈی کے قیام کا قانون لائیں گے۔ 

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ 2021-22 کے لیے میڈیکل کے داخلے شروع کردیے جائیں تاکہ طلبا کے سال کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے ۔ 

 سندھ میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز (پبلک اینڈ پرائیویٹ) میں کل نشستوں کی تعداد 5490 ہے۔ گزشتہ سال ایم ڈی سی اے ٹی میں 60 فیصد کے مطابق سندھ میں 8287 طلباء پاس ہوئے جن میں سے 2900 نے پبلک سیکٹر کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں داخلہ لیا، باقی 5387 طلباء میں سے تقریباً 800 نے پرائیویٹ سیکٹر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلہ لیا جبکہ باقی 4587 بنیادی طور پر عدم استطاعت کی وجہ سے داخلہ حاصل نہیں کرسکے، اس طرح تقریباً 1800 نشستیں خالی رہ گئیں اور نجی شعبے کو دوسرے صوبوں سے 1300 امیدوار ملے جبکہ 492 نشستیں خالی رہیں۔ 

ایم ڈی کیٹ 2021ء میں کوالیفائی کرنے والوں کی تعداد 7797  ہے۔ 

دوسری جانب پاکستان میڈیکل کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں ایم ڈی کیٹ میں 65 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلباء میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے اہل نہیں ہیں۔ 

پی ایم سی کے حکام کا کہنا تھا کہ اصل میں سندھ حکومت پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجوں میں سیٹوں کو بھرنے کے لیے ایم ڈی کیٹ کی پرسنٹیج 65 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد پر لانا چاہ رہی ہے، کم نمبر حاصل کرنے والے امیر والدین کے بچوں کو پیسوں کے بل بوتے پر میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں ایڈمیشن دے کر نااہل اور ڈاکٹر پیدا کیے جائیں گے۔ 

پی ایم سی کے حکام کا کہنا تھا کہ ان کے کرائٹیریا پر پورا نہ اترنے والے طلباء کو پی ایم سی رجسٹر نہیں کرے گا اور ایسے طلبہ ڈاکٹر بننے کے بعد ملک میں پریکٹس کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube