Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

کراچی: ڈینگی وائرس سے متاثرہ ڈاکٹر محمود الحسن انتقال کرگئے

SAMAA | - Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 1 month ago

کراچی میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ جناح اسپتال وارڈ 5 کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن انتقال کرگئے۔کراچی سمیت سندھ بھر میں رواں سال ڈینگی وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے بھر میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 6 ہزار 146 سے تجاوز کر چکی ہے۔

جناح اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان کے مطابق ڈاکٹر محمودالحسن چند روز قبل بیمار ہوگئے تھے اور ابتدائی ٹیسٹ کے نتیجے میں ان کا ڈینگی ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہیں این ایم سی اسپتال داخل کردیا گیا تھا جہاں طبیعت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر لگا دیا گیا تھا تاہم وہ پیر کی رات انتقال کرگئے، وہ ڈینگی شاک سینڈروم کا شکار تھے۔ڈاکٹر محمود الحسن جناح اسپتال کے میڈیسن وارڈ 5 میں تعینات تھے ، واضح رہے کہ اس وارڈ میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریض بھی داخل کیے جاتے ہیں۔

تصویر:ڈاکٹر محمودالحسن

محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں ڈینگی وائرس کے  مزید 27 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، صرف دسمبر کے مہینے میں ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 210 ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں ڈینگی وائرس سے برس کراچی میں 21، حیدرآباد میں چار اور میرپورخاص میں ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے ۔

تصویر: ڈاکٹر ثاقب انصاری 

ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ کتابوں میں ڈینگی کو کیلیپر لیکج سینڈروم کہا جاتا ہے ، بخار کے چوتھے ، پانچویں اور چھٹے دن میں نسوں کا پانی نسوں سے نکل کر جسم کے ٹشوز میں جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے خون کی شریانوں میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے اور بلڈ پریشر کم ہونا شروع ہوجاتا ہے جسے ڈینگی شاک سینڈروم کہتے ہیں ، اس کے نتیجے میں خون کی رسائی دل اور دماغ کو نہیں پہنچ پاتی اور ملٹی آرگن فیلیئر کا خدشہ ہوتا ہے ، ایسی صورت میں متاثرہ مریض کو فوری طور پر ڈرپس لگاکر پانی کی کمی پوری کی جاتی ہے اور بلڈ پریشر کو مین ٹین کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ڈینگی ہیمریجک سینڈروم میں پلیٹی لیٹس کم ہونے کی صورت میں جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے، بہ ظاہر جلد پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں، دانتوں اور مسوڑوں سے خون آتا ہے اور یہی خون دماغ یا جسم کے دوسرے حصوں میں بہنے لگے تو زندگی کو خطرہ ہوتا ہے ، ایسی صورت میں متاثرہ مریض کو فوری طور پر پلیٹی لیٹس لگائے جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے ابھی کوئی ویکسین دستیاب نہیں تو اپنے تحفظ کے لیے موسکیٹو ریپیلنٹس کا استعمال کریں چاہے گھر یا دفتر سے باہر ہو یا چار دیواری کے اندر، گھر سے آستینوں والی قمیض اور پیروں میں جرابیں پہنے، گھر میں اے سی ہو تو اسے چلائیں، کھڑکیاں اور دروازوں میں مچھروں کی آمد روکنا یقینی بنائیں، اے سی نہیں تو مچھروں سے بچاؤ کے نیٹ استعمال کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube