Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

سندھ:ایچ آئی وی مریضوں کا علاج نہ کرنےپر بھاری جرمانے کافیصلہ 

SAMAA | - Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Dec 7, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: سماء ڈیجیٹل

محکمہ صحت سندھ نے اسپتالوں کو متنبہ کیا ہے کہ ان کی جانب سے ایچ آئی وی مریضوں کے علاج سے انکار پر متعلقہ افراد پر 20 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ 

محکمہ صحت سندھ کے کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشاد کاظمی کی جانب سے صوبے کے  اسپتالوں اور دیگر متعلقہ افسران کو جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کو اسپتالوں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں علاج، داخلے اور کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ 

خط میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کو علاج کی سہولتیں نہ دینا یا امتیازی سلوک کرنا ایچ آئی وی کے حوالے سے نافذالعمل 2013 کے ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم ہے اور طبی عملے سمیت سرکاری افسران کو اس طرح کے سلوک کے نتیجے میں 50 ہزار روپے سے لے کر 20 لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھرنا پڑسکتا ہے۔ 

علاوہ ازیں مذکورہ ایکٹ کے تحت کسی ایچ آئی وی متاثرہ شخص کی علاج معالجے سے منع کرنے کی غرض سے اسکریننگ کرنا بھی ممنوع ہے۔ 

کمیونیکیبل ڈیزیز کنٹرول نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو پوری عزت و احترام، پیشہ وراانہ طریقہ کار اور ہمدردی کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی صوبے کے تمام طبی عملے کا فرض ہے۔ 

سندھ کے ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹرز کے انچارجز کے مطابق ایچ آئی وی مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور اکثر سرکاری اسپتال انہیں داخل نہیں کرتے جس کے باعث وہ پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کروانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ 

اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر وہ حاملہ خواتین ہوتی ہیں جنہیں ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کے باعث سرکاری اسپتالوں کے زچہ وارڈز میں داخل ہی نہیں کیا جاتا جس کے بعد وہ زچگی و علاج کے لیے پرائیوٹ اسپتالوں میں پیسہ خرچ کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں ایچ آئی وی سے متاثرہ خواجہ سراؤں کو بھی علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube